نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کے روز انتخابی تنازع سے متعلق ایک اہم معاملے کی سماعت کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے سخت تبصرہ کیا کہ ’’ہم آپ کو اس طرح جمہوریت کو ہائی جیک نہیں کرنے دے سکتے۔‘‘ عدالت عظمیٰ نے کانگریس رہنما ٹی ڈی راج گوڑا کو عبوری راحت فراہم کرتے ہوئے ان کی اسمبلی رکنیت فی الحال برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ یہ معاملہ شرنگیری اسمبلی حلقے کے انتخابی نتائج سے متعلق ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس سنجے کمار اور جسٹس کے ونود چندرن کی بنچ نے بی جے پی امیدوار ڈی این جیوراج کے خلاف سخت تبصرے کیے۔ عدالت نے کہا کہ جمہوری نظام کو اس انداز میں متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس کے بعد بنچ نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے دونوں فریقوں کے اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کی ہدایت دی، یعنی ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے پہلے والی صورتحال بحال رہے گی اور ٹی ڈی راج گوڑا بدستور ایم ایل اے رہیں گے۔ یہ تنازع 2023 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات سے جڑا ہے۔ کانگریس کے ٹی ڈی راج گوڑا نے شرنگیری اسمبلی سیٹ 201 ووٹوں کے معمولی فرق سے جیتی تھی۔ بعد میں بی جے پی امیدوار ڈی این جیوراج نے کرناٹک ہائی کورٹ میں انتخابی عرضی دائر کرکے نتائج کو چیلنج کیا۔ 6 اپریل کو ہائی کورٹ نے 279 مسترد شدہ پوسٹل بیلٹ ووٹوں سمیت ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد 3 مئی 2026 کو ریٹرننگ افسر نے ترمیم شدہ نتائج جاری کرتے ہوئے کہا کہ راج گوڑا کے ووٹ 255 کم ہو گئے ہیں اور جیوراج فاتح قرار پائے ہیں۔ اس فیصلے کے خلاف ٹی ڈی راج گوڑا نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ہائی کورٹ نے صرف 279 مسترد شدہ پوسٹل بیلٹ ووٹوں کی جانچ کا حکم دیا تھا، لیکن ریٹرننگ افسر نے غیر قانونی طور پر 562 ایسے درست ووٹوں کی بھی دوبارہ جانچ کی جو ان کے حق میں تھے۔ دوسری جانب ڈی این جیوراج کے خلاف پوسٹل بیلٹ میں مبینہ چھیڑ چھاڑ کا ایک فوجداری مقدمہ بھی زیر سماعت ہے۔ یہ شکایت کانگریس کے انتخابی ایجنٹ سدھیر کمار مورولی نے درج کرائی تھی۔ اس مقدمے میں ڈپٹی کمشنر کے این رمیش، سابق ریٹرننگ افسر وید مورتی اور دیگر افراد کے نام بھی شامل ہیں۔ تاہم، کرناٹک ہائی کورٹ نے حال ہی میں اس فوجداری کارروائی پر روک لگا دی تھی۔ سپریم کورٹ کے تازہ حکم کے بعد فی الحال ٹی ڈی راج گوڑا شرنگیری اسمبلی حلقے کے منتخب رکن اسمبلی برقرار رہیں گے۔ اس معاملے کو کرناٹک کی سیاست میں ایک اہم قانونی اور سیاسی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
Source: social Media
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی