Kolkata

سابق فوجی افسر کی اہلیہ سے تین کروڑ روپئے ہڑپنے کے الزام میں ایک نوجوان گرفتار

سابق فوجی افسر کی اہلیہ سے تین کروڑ روپئے ہڑپنے کے الزام میں ایک نوجوان گرفتار

ہریانہ میں ڈیجیٹل گرفتاری کا خوف دلا کر ایک سابق فوجی افسر کی معمر اہلیہ سے 3 کروڑ روپے ہڑپنے کے معاملے میں کولکتہ سے ایک نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کولکتہ اور ہریانہ پولیس کی مشترکہ مہم کے دوران اسے جنوبی کولکتہ کے بانسدرونی علاقے سے پکڑا گیا۔ ہریانہ کے پنچکولہ کی رہائشی، جو ایک سابق فوجی افسر کی اہلیہ ہیں۔سائبر مجرموں نے خود کو سی بی آئی افسر ظاہر کر کے خاتون کو فون کیا اور دعویٰ کیا کہ ان کے نام پر آنے والے ایک پارسل میں منشیات برآمد ہوئی ہیں۔نے خاتون کو خوفزدہ کرنے کے لیے 'ڈیجیٹل گرفتاری' کا ڈرامہ رچا، انہیں گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا اور ویڈیو کالز کے ذریعے جعلی دستاویزات دکھائیں۔اس مشکل سے بچنے کے لیے خاتون نے ان کے اکاونٹ میں 3 کروڑ روپے منتقل کر دیے۔تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ رقم کا ایک حصہ کولکتہ کے ایک بینک اکاونٹ میں آیا ہے۔ پولیس نے راہول رائے نامی نوجوان کو بانسدرونی سے گرفتار کیا، جسے اب ہریانہ منتقل کیا جا رہا ہے۔تقریباً اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ جنوبی کولکتہ کے پنچ سائر (نیا آباد) علاقے میں پیش آیا۔یہاں ایک معمر خاتون کو فون کر کے پولیس افسر بن کر ڈرایا گیا کہ ان کے خلاف دھوکہ دہی کا کیس ہے جس میں ان کی بیٹی اور داماد بھی ملوث ہیں۔گرفتاری سے بچنے کے لیے خاتون نے دو قسطوں میں کل 12 لاکھ 55 ہزار روپے بھیج دیے۔ بعد میں بیٹی اور داماد سے بات کرنے پر انہیں احساس ہوا کہ وہ دھوکہ دہی کا شکار ہوئی ہیں۔ اس معاملے کی تحقیقات پنچ سائر تھانہ پولیس کر رہی ہے۔ پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ قانون میں 'ڈیجیٹل گرفتاری' جیسا کوئی تصور نہیں ہے۔ اگر کوئی خود کو پولیس یا تفتیشی ایجنسی کا افسر ظاہر کر کے ویڈیو کال پر گھر میں قید رہنے یا رقم دینے کا مطالبہ کرے، تو فوری طور پر قریبی تھانے یا سائبر سیل کو اطلاع دیں۔

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments