کولکتہ: کھانے پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ اور مصنوعی رنگوں کے استعمال کو روکنے اور خوراک کے معیار کی باقاعدہ جانچ پڑتال کے حوالے سے ریاست کے کردار پر کلکتہ ہائی کورٹ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ حال ہی میں اس سلسلے میں ہائی کورٹ میں ایک کیس دائر کیا گیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ کچی سبزیوں، مچھلی، گوشت، دودھ، پھلوں، اسٹریٹ فوڈ، پروسیسڈ فوڈ اور مٹھائیوں میں ملاوٹ اور مختلف مشروبات میں مصنوعی رنگوں کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے بچوں سے لے کر بوڑھوں تک ہر کوئی متاثر ہو رہا ہے۔ عدالت سے اسے روکنے کے لیے مداخلت کی درخواست کی گئی تھی۔ جمعرات کو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجوئے پال کے ڈویڑن بنچ میں اس کیس کے سلسلے میں ریاست کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر مبنی تفصیلی رپورٹ جمع کرائی گئی، جسے دیکھ کر ڈویڑن بنچ نے اطمینان کا اظہار کیا۔ ریاست کی جانب سے بتایا گیا کہ فوڈ سیفٹی انڈیکس (خوراک کے تحفظ کے اشاریہ) میں مغربی بنگال اب چھٹے نمبر پر آ گیا ہے۔ عدالت نے ہدایت دی ہے کہ ریاست کے محکمہ صحت کو اس معاملے میں مستعد رہنا ہوگا اور غذائی اشیائ کے معیار اور پاکیزگی کی باقاعدہ جانچ جاری رکھنی ہوگی۔ اگر کھانے پینے کی اشیائ کے تاجروں کی جانب سے کوئی خامی یا کوتاہی پائی جائے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ فوڈ سیفٹی ڈپارٹمنٹ میں عملے کی کمی نہیں ہونی چاہیے، اور اگر کوئی اسامی خالی ہو تو ریاست اسے خود کار طریقے سے پ±ر کرے تاکہ معیار کی جانچ کا کام درست طریقے سے چل سکے۔ عدالت نے اس عوامی مفاد کی عرضی کو آج نمٹا دیا ہے۔ عدالت میں ریاستی وکیل نے بتایا کہ 2019 میں ریاست فوڈ سیفٹی انڈیکس میں 15 ویں نمبر پر تھی، جہاں سے اب یہ ملک میں چھٹے نمبر پر پہنچ گئی ہے۔ ملاوٹ پر قابو پانے کے لیے ریاست کے اضلاع، بلدیات اور بلاک کی سطح پر کل 176 فوڈ سیفٹی افسران موجود ہیں، اضلاع میں 28 افسران اور 3 ریاستی فوڈ انویسٹی گیٹنگ افسران تعینات ہیں۔ فوڈ سیفٹی افسران ہر ماہ کم از کم 25 نمونے جمع کر کے لیبارٹری بھیجتے ہیں۔ریاستی وکیل نے مزید بتایا کہ ریاست میں جدید انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کی مدد سے خوراک کے معیار کی جانچ کی جاتی ہے۔ فی الحال ریاست میں 30 موبائل لیبارٹریز (چلتی پھرتی تجربہ گاہیں) موجود ہیں۔ خوراک کے معیار کا تعین کرنے کے لیے ایک نئی مائیکرو بائیولوجی لیب شروع کی گئی ہے اور مزید 3 مخصوص لیبارٹریز بنانے کا منصوبہ ہے۔
Source: PC- sangbadpratidin
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی