Kolkata

الیکشن آتے ہی مجرموں کو جیل سے رہا کرنے کا الزام، کمیشن کا بڑا قدم

الیکشن آتے ہی مجرموں کو جیل سے رہا کرنے کا الزام، کمیشن کا بڑا قدم

کولکتہ: انتخابی شیڈول کے اعلان کے چند گھنٹوں کے اندر الیکشن کمیشن نے ریاست کی پولیس انتظامیہ میں کئی تبدیلیوں کا فیصلہ کیا ہے۔ جہاں ایک طرف چیف سکریٹری کی تبدیلی پر حکمراں جماعت ترنمول کانگریس برہم ہے، وہیں کمیشن کے ایک اور فیصلے نے بحث چھیڑ دی ہے۔ کمیشن نے محکمہ جیل خانہ جات کے ڈی جی کے عہدے پر بھی تقرری کر دی ہے۔نٹراجن رمیش بابو کو محکمہ جیل خانہ جات کا نیا ڈی جی مقرر کیا گیا ہے۔ عام طور پر الیکشن کمیشن انتخابی مرحلے کے دوران جیل انتظامیہ میں مداخلت یا تبدیلی نہیں کرتا، لیکن اس بار کمیشن نے خود آگے بڑھ کر یہ قدم کیوں اٹھایا، اس کے پیچھے کئی اہم وجوہات سامنے آ رہی ہیں۔ انتخابی شیڈول کے اعلان سے قبل سدھیناتھ گپتا محکمہ جیل کے ڈی جی تھے۔ اعلان کے فوراً بعد کمیشن نے انہیں ریاستی پولیس کا ڈی جی بنانے کا فیصلہ کیا، جس سے یہ عہدہ خالی ہو گیا۔ کمیشن کو ایسی متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں کہ انتخابات قریب آتے ہی جیلوں سے کئی خطرناک مجرموں کو رہا کر دیا جاتا ہے۔ گزشتہ چند انتخابات میں بھی ایسے الزامات سامنے آئے تھے۔ حال ہی میں الیکشن کمیشن کے فل بنچ نے مغربی بنگال کا دورہ کیا تھا، جہاں ان سے یہ شکایت کی گئی تھی۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے بھی اس کا ذکر کیا تھا۔ اسی وجہ سے کمیشن نے خود ڈی جی کا انتخاب کیا تاکہ جیل انتظامیہ پر براہ راست نظر رکھی جا سکے۔ 1991 بیچ کے آئی پی ایس افسر نٹراجن رمیش بابو کو اس عہدے کے لیے منتخب کرنے پر بھی بحث ہو رہی ہے۔ وہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران بدھان نگر کے پولیس کمشنر رہ چکے ہیں اور انہیں کمیشن کا بااعتماد افسر سمجھا جاتا ہے۔انتظامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کمیشن چاہتا تو یہ تقرری ریاستی حکومت پر چھوڑ سکتا تھا، لیکن خود مداخلت کر کے کمیشن نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اس بار جیلوں سے ہونے والی کسی بھی مشکوک سرگرمی پر سخت نظر رکھے گا۔

Source: PC- tv9bangla

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments