Kolkata

ایک مخصوص فرقہ کے خلاف اشتعال انگیز ریمارکس کے الزام میں امیت شاہ کے خلاف مقدمہ دائر

ایک مخصوص فرقہ کے خلاف اشتعال انگیز ریمارکس کے الزام میں امیت شاہ کے خلاف مقدمہ دائر

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف ایک مخصوص مذہب کے پیروکاروں کے خلاف اشتعال انگیز تبصرے کرنے کے الزام میں کلکتہ ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ امت شاہ پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا بھی الزام ہے۔ شکایت کنندہ نے پہلے ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کی تھی لیکن ناکامی کے بعد اب عدالت سے رجوع کیا ہے۔ اس کیس کی سماعت 30 اپریل کو ہونے کا امکان ہے۔ وکیل شبھاشیش داس گپتا نے الزام لگایا ہے کہ امت شاہ نے اپنی تقریر میں ایک خاص برادری کو نشانہ بناتے ہوئے اشتعال انگیز باتیں کہیں۔ وکیل کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پہلے پولیس سے رابطہ کیا تھا لیکن پولیس کی جانب سے کوئی تعاون نہیں ملا، جس کے بعد انہوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ منگل کے روز جسٹس کرشنا راو کی بنچ سے فوری سماعت کی درخواست کی گئی تھی، جس پر عدالت نے مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ریاستی اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں امت شاہ گزشتہ کئی دنوں سے بنگال میں مسلسل مہم چلا رہے ہیں۔ ان کی تقاریر پر خود وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی اعتراض اٹھایا تھا۔ ممتا بنرجی نے خاص طور پر امت شاہ کے اس تبصرے کا ذکر کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 'ترنمول کے لوگوں کو الٹا لٹکا کر سیدھا کر دیا جائے گا'۔ وزیر اعلیٰ نے ان بیانات کو مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے وکلاءکو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس معاملے پر قانونی کارروائی کریں۔ اسی تناظر میں اب ایک وکیل نے اشتعال انگیز تقریر اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت ہائی کورٹ میں یہ کیس دائر کیا ہے۔

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments