Kolkata

ایک کے بعد ایک ریسٹورنٹ بند ہو رہے ہیں، کیا اب کولکتہ میں بریانی نہیں ملے گی؟

ایک کے بعد ایک ریسٹورنٹ بند ہو رہے ہیں، کیا اب کولکتہ میں بریانی نہیں ملے گی؟

کولکاتا10مارچ : مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے براہِ راست اثرات اب بھارت کے عام شہریوں پر پڑ رہے ہیں۔ کھانا پکانے والی گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں ایک دم 60 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ کمرشل گیس کی قیمت 115 روپے بڑھ گئی ہے۔ ملک کے دیگر بڑے شہروں کی طرح کولکتہ اور سلیگڑی میں بھی اس کا اثر صاف دکھائی دے رہا ہے۔ کئی ریسٹورنٹ اور کچن بند ہو رہے ہیں۔ تاجر کمرشل گیس کی قلت سے پریشان ہیں اور اس سلسلے میں فیڈریشن آف ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ آف انڈیا کی جانب سے پیٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری کو خط بھی لکھا گیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ مختلف گیس فراہم کرنے والی کمپنیوں نے سپلائی بند کر دی ہے۔ اس کے نتیجے میں سلیگڑی کے بہت سے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ گیس کی کمی کی وجہ سے متعدد ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کے کچن کے شٹر گرنا اب صرف وقت کی بات ہے۔ گیس ڈیلر کوشک سرکار کا کہنا ہے کہ "مرکز کی ہدایات کی وجہ سے ہم کسی کو کمرشل گیس فراہم نہیں کر رہے۔ بحران شروع ہو چکا ہے۔ بہت سے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے فون آ رہے ہیں، لیکن ہم مجبور ہیں، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔" دوسری جانب سلیگڑی کے ایک ہوٹل مالک نرمل ساہا نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "جو اسٹاک بچا ہے اس سے ہوٹل کا کچن بمشکل دو دن چلے گا، اس کے بعد بند کر دوں گا۔ موجودہ صورتحال میں اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔" ہوٹل مالکان کی تنظیم کے اجول گھوش بھی فکر مند ہیں، ان کا کہنا ہے کہ "کئی لوگوں کا روزگار ختم ہونے کے دہانے پر ہے، ہم ہنگامی اجلاس بلا رہے ہیں۔کولکتہ میں بھی کمرشل گیس کے بحران کی وجہ سے شہر کے مشہور بریانی چینز کو مشکلات کا سامنا ہے۔ گیس نہ ملنے کی وجہ سے ادارے اب لکڑی کے چولہے پر بریانی بنانے کا سوچ رہے ہیں، لیکن اس کے لیے پولوشن کنٹرول بورڈ کی منظوری درکار ہوگی۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے وہ اپنی کچھ برانچز بند کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ جہاں روزانہ 70 کمرشل گیس سلنڈر درکار ہوتے ہیں، وہاں آج صرف 10 سلنڈر فراہم کیے گئے ہیں، جس سے تشویش انتہا کو پہنچ گئی ہے۔

Source: PC- tv9bangla

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments