Kolkata

دستاویزات کی حفاظت کے لیے مغربی بنگال کے سرکاری دفاتر میں مرکزی فورسز تعینات

دستاویزات کی حفاظت کے لیے مغربی بنگال کے سرکاری دفاتر میں مرکزی فورسز تعینات

مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں اقتدار کی تبدیلی کے پیش نظر، الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے موجودہ ریاستی سکریٹریٹ ’نبنا‘ سمیت سرکاری دفاتر میں مرکزی افواج کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔ پیر کے روز افسران نے بتایا کہ یہ قدم سرکاری دستاویزات کی حفاظت کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سرکاری ریکارڈ کو تلف ہونے سے بچانے کے لیے دوپہر میں ریاست کے کئی سرکاری دفاتر میں سی آر پی ایف کی ٹیمیں تعینات کر دی گئیں۔ ریاستی سکرٹریٹ نبنا، رائٹرز بلڈنگ، وکاس بھون، جل سمپد بھون اور کھادیہ بھون میں کوئیک ریسپانس ٹیمیں (کیو آر ٹی) تعینات کی گئی ہیں۔ اس کا مقصد تمام سرکاری دستاویزات کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ واضح رہے کہ ریاست میں انتخابی مہم کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اعلان کیا تھا کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے پر تمام فائلیں کھولی جائیں گی۔ مانا جا رہا ہے کہ اسی وجہ سے تمام دستاویزات کی حفاظت کے لیے یہ پہل کی گئی ہے۔ فی الحال، ہاوڑہ کے مندر تلا میں شرت چٹرجی روڈ پر واقع نبنا ریاست کا اہم انتظامی مرکز ہے، جہاں وزیر اعلیٰ کا دفتر واقع ہے۔ بائیں بازو کے دور حکومت میں رائٹرز بلڈنگ سرکاری سکریٹریٹ کی عمارت ہوا کرتی تھی۔ اب ایسی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ بی جے پی اقتدار میں آنے کی صورت میں رائٹرز بلڈنگ کو دوبارہ وہی اہمیت دے سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ان عمارتوں کی تزئین و آرائش کا منصوبہ پہلے ہی تیار کیا جا چکا ہے۔ افسران نے بتایا کہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ان دفاتر کے آس پاس مرکزی افواج تعینات کی گئی ہیں۔ ریاستی حکومت کے ملازمین کے بیگ کی تلاشی لی جا رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی رکھی جا رہی ہے کہ کوئی بھی ملازم ریاستی سکریٹریٹ سے باہر کوئی فائل نہ لے جائے۔ قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور امت شاہ نے ریاست میں انتخابی مہم کے دوران ترنمول کانگریس حکومت پر بدعنوانی کے کئی الزامات عائد کیے تھے۔ انہوں نے بار بار وارننگ دی تھی کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے پر تمام فائلیں کھولی جائیں گی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments