Kolkata

دیبا شیش کمار کو ترنمول کے تنظیمی عہدے ہٹا دیا گیا

دیبا شیش کمار کو ترنمول کے تنظیمی عہدے ہٹا دیا گیا

وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری کو اشارہ کیا تھا کہ فون پر بات کریں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ اگلے ہی روز دیباشش کمار کو جنوبی کولکاتا ضلع ترنمول کانگریس کے صدر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ نئے صدر کے طور پر ویشونر چٹوپادھیائے کو ذمہ داری مل رہی ہے۔ پارٹی کے اس فیصلے پر سیاسی حلقوں میں زوردار بحث شروع ہو گئی ہے۔ تاہم دیباشش کمار کا کہنا ہے، "جنوبی کولکاتا ضلع ترنمول کی کمیٹی پہلے ہی ختم کر دی گئی تھی۔ اس لیے مجھے ہٹانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔" دیباشش کے اس بیان کے باوجود جنوبی کولکاتا ضلع ترنمول کے ایک حصے کے مطابق اس مشکل وقت میں دیباشش جیسے تجربہ کار رہنما کو چھوڑ کر ایک مبینہ 'نرم خیال' وکیل ویشونر کو ذمہ داری دینے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ترنمول ذرائع کے مطابق تنظیم کو مزید فعال اور مضبوط بنانے کے لیے یہ تبدیلی کی گئی ہے۔ تاہم وقت کے انتخاب کی وجہ سے اس تبدیلی کے گرد قیاس آرائیاں بھی ہیں۔ کیونکہ محض ایک دن پہلے کولکاتا میونسپل کارپوریشن میں وزیر اعلیٰ شوبھیندو کی موجودگی میں ایک واقعہ نے سیاسی حلقوں کی توجہ مبذول کرائی تھی۔ پیر کو وزیر اعلیٰ کولکاتا میونسپل کارپوریشن آئے تھے۔ اس دوران مختلف وارڈز کے متعدد ترنمول کونسلروں کو ان سے ملاقات کرتے دیکھا گیا۔ موجود افراد کے ایک حصے کا دعویٰ ہے کہ اس دوران دیباشش نے بھی وزیر اعلیٰ سے مختصر گفتگو کی اور اشارے سے فون پر رابطہ کرنے کا پیغام دیا۔ یہ واقعہ وہاں موجود بہت سے لوگوں کی نظر میں آیا اور بعد میں اس پر بحث شروع ہو گئی۔ اسی کے اگلے ہی روز دیباشش کو ضلعی صدر کے عہدے سے ہٹا کر ویشونر کو ذمہ داری دینے سے قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ اگرچہ پارٹی قیادت کی جانب سے اس تبدیلی کا پیر کے واقعے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں، اس سلسلے میں کوئی باضابطہ وضاحت نہیں دی گئی۔ نئی ذمہ داری ملنے کے بعد ویشونر کے گرد جنوبی کولکاتا تنظیم کے کارکنوں اور حامیوں میں جوش و خروش دیکھا گیا۔ ذمہ داری ملنے پر ویشونر نے کہا کہ جنوبی کولکاتا میں تنظیم کو مزید مضبوط بنانا، بوتھ سطح پر پارٹی سرگرمیاں بڑھانا اور سیاسی پروگراموں کو متحرک کرنا ان کا ہدف ہے۔ دوسری طرف، طویل عرصے سے ضلعی صدر کی ذمہ داری سنبھالنے والے دیباشش کی ہٹائی جانے کی وجہ پر پارٹی کے اندرونی حلقوں میں کئی بحثیں جاری ہیں، تاہم ترنمول کی طرف سے اب تک اس سلسلے میں کوئی تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments