کسٹمزمحکمے کی لوہے کی سندوق سے 50 ہزار یورو غائب ہو گئے! ہندوستانی روپے میں جس کی موجودہ مالیت 54 لاکھ 35 ہزار روپے بنتی ہے۔ محکمے کی سندوق سے جادوئی طریقے سے غائب ہو جانے والے ان یورو کا پتہ نہ چلنے پر آخر کار کسٹمز افسران نے پولیس کا سہارا لیا ہے۔کسٹمز محکمے کے ذرائع کے مطابق، اس واقعے کا آغاز آج سے بارہ سال قبل، 2014ءمیں ہوا۔ شمالی 24 پرگنہ کے رہائشی راج کمار داس بنکاک جا رہے تھے۔ اس دوران ان کے ساتھ موجود بیگ کی تلاشی کے دوران کسٹمز افسران کو 50 ہزار یورو ملے۔محکمے کو مطلع کیے بغیر غیر قانونی طریقے سے غیر ملکی کرنسی اسمگل کرنے کے الزام میں کسٹمز نے وہ یورو ضبط کر لیے۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ راج کمار داس 10 ہزار روپے کے عوض کسی اور شخص کی یہ رقم بینک تک پہنچا رہے تھے۔ ضبطی کے وقت ان یورو کی ہندوستانی روپے میں مالیت 41 لاکھ 52 ہزار روپے تھی۔ غیر ملکی کرنسی کے قانون کے مطابق جرمانہ ادا کرکے رقم چھڑانے کی کوشش بھی کی گئی، لیکن آخر کار کسٹمز نے پوری رقم ضبط کر لی۔ ضابطے کے مطابق 2021ئ میں اس ضبطی کا معاملہ باراسات عدالت کو بھی مطلع کیا گیا۔ اس کے بعد 2023ءمیں کسٹمز محکمے کے اندرونی قواعد کے مطابق وہ رقم ہوائی اڈے سے بینک کی تحویل میں بھیجنے کا عمل شروع ہی ہونے والا تھا کہ کسٹمز افسران حیران رہ گئے۔ غیر ملکی کرنسی کسٹمز کے ایئر انٹیلی جنس یونٹ نے ضبط کی تھی اور ان کی ہی لوہے کی سندوق میں وہ یورو رکھے گئے تھے۔ لیکن سندوق سے وہ کرنسی غائب تھی۔ کسٹمز کے تفتیش کاروں نے اس کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات شروع کیں اور دیکھا کہ اس سندوق کے کھولنے اور بند کرنے سے متعلق دستاویزات میں بھی دھاندلی کی گئی ہے اور معلومات کو تباہ کیا گیا ہے۔ نتیجتاً اندرونی تفتیش میں یہ پتہ نہیں چل سکا کہ رقم کس نے غائب کی۔ کسٹمز کے ایک افسر نے اشارہ دیا کہ باہر کے کسی شخص کا اس رقم کو غائب کرنا ممکن نہیں، محکمے کے اندر ہی کوئی شخص اس میں ملوث ہے۔کسٹمز کی اندرونی تفتیش کے اختتام پر، ہوائی اڈے پر کسٹمز کے اسسٹنٹ کمشنر (ایئر انٹیلی جنس یونٹ) انیل کمار داس نے 5 جون کو ہوائی اڈے کے تھانے میں باقاعدہ شکایت درج کرائی۔ ابتدائی تفتیش کے بعد 11 جون کو اس شکایت کی بنیاد پر پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس افسران خود بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ 12 سال پرانے واقعے میں یہ رقم برآمد کرنا یا چور کو پکڑنا آسان کام نہیں ہوگا۔
Source: PC-anandabazar
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی