کلکتہ ہائی کورٹ کے ایک انسانی اور تاریخی فیصلے کے بعد بالآخر ساڑھے چار سال بعد حادثے میں بستر پر پڑی خاتون پونم گپتا اپنے گھر واپس لوٹ گئیں۔ "ایک شوہر کسی بھی صورت میں اپنی جائز بیوی کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا"— اس سخت تبصرے کے ساتھ عدالت نے واضح کیا کہ بیماری کا بہانہ بنا کر خاندان یا بیوی کو چھوڑا نہیں جا سکتا۔کلکتہ کے ایمہرسٹ اسٹریٹ کے رہائشی پونم گپتا (گھریلو خاتون) اور ان کے شوہر جے پرکاش گپتا (لوہے کے کباڑ کے تاجر)۔حادثہ: چند سال پہلے شوہر کے ساتھ اسکوٹی پر جاتے ہوئے پونم ایک حادثے کا شکار ہو گئیں۔ سر پر شدید چوٹ آنے کی وجہ سے وہ بولنے اور چلنے پھرنے کی صلاحیت کھو بیٹھیں، تاہم وہ اشاروں کا جواب دے سکتی ہیں اور خود کھانا کھا سکتی ہیں۔ کلکتہ میڈیکل کالج کے بعد انہیں بائی پاس کے قریب ایک نجی ہسپتال میں منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے زندگی کے ساڑھے چار سال گزارے۔ 30 ستمبر 2024 تک ہسپتال کا بل 1 کروڑ 9 لاکھ روپے تک پہنچ گیا۔ اس میں سے انشورنس کمپنی نے 5 لاکھ 70 ہزار روپے دیے اور خاندان نے صرف 15 ہزار روپے ادا کیے۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق، پونم کو گھر لے جا کر دیکھ بھال کرنا ممکن تھا، لیکن ان کے شوہر نے بل دینا بند کر دیا اور انہیں گھر لے جانے سے انکار کر دیا۔ مجبوراً ہسپتال انتظامیہ نے 2022 میں پولیس میں شکایت درج کروائی۔2024 میں ہسپتال انتظامیہ نے 'ویسٹ بنگال کلینیکل اسٹیبلشمنٹ ریگولیٹری کمیشن' سے رجوع کیا اور بعد میں کلکتہ ہائی کورٹ میں کیس دائر کیا۔عدالت میں جے پرکاش نے دعویٰ کیا کہ اس حالت میں بیوی کو گھر پر رکھنا ان کے بس میں نہیں ہے، اس لیے انہیں کسی سرکاری ہوم یا ہسپتال بھیج دیا جائے۔جسٹس کرشنا راو کے بینچ نے کلکتہ میڈیکل کالج کے ڈاکٹروں پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر عدالت نے پونم کو گھر واپس لے جانے کا حکم دیا۔پونم کا ایک 17 سالہ بچہ ہے، اگر ماں کو ہوم (آشرم) بھیج دیا گیا تو وہ ماں کی محبت سے محروم ہو جائے گا۔ اگر تمام بیمار لوگوں کو ہوم بھیجنا شروع کر دیا گیا تو سماجی نظام تباہ ہو جائے گا اور حکومت پر بلاوجہ دباو بڑھے گا۔عدالت کے حکم پر ہسپتال اور علاج کے تمام بل معاف کر دیے گئے ہیں۔ ساڑھے چار سال کے طویل انتظار کے بعد بالآخر گزشتہ جمعرات کی شام پونم گپتا اپنے گھر واپس لوٹ گئیں۔
Source: PC-sangbadpratidin
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی