Kolkata

کانگریس اپنی پرانی روش پر برقرار! بالی گنج سے سومین مترا کے بیٹے کو امیدوار بنانے پر ودھان بھون میدانِ جنگ بن گیا،

کانگریس اپنی پرانی روش پر برقرار! بالی گنج سے سومین مترا کے بیٹے کو امیدوار بنانے پر ودھان بھون میدانِ جنگ بن گیا،

اسمبلی میں ان کی تعداد صفر ہے۔ 2023 میں بائرن بسواس ساگر دیگھی سے کانگریس کے ٹکٹ پر جیتے تھے، لیکن بعد میں ترنمول میں شامل ہو گئے۔ اس کے باوجود ٹکٹ کی تقسیم پر کانگریس (ہاتھ کے نشان والی پارٹی) میں زبردست ہاتھا پائی دیکھنے کو ملی! بدھ کے روز امیدواروں کے ناموں پر احتجاج کے باعث ودھان بھون میدانِ جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ بدھ کی دوپہر ریاستی کانگریس کے ہیڈ کوارٹر میں ہنگامہ آرائی کے دوران ایک کارکن کا سر پھٹ گیا اور خاتون کارکنوں کے ساتھ دست درازی کے الزامات بھی سامنے آئے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے بالآخر مرکزی فورسز کو بلانا پڑا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ صوبائی کانگریس صدر نے اسمبلی انتخابات کے ”ٹکٹ بیچے“ ہیں۔ اس حوالے سے پوسٹرز بھی چسپاں کیے گئے۔ ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض کارکنوں اور دوسرے گروپ کے درمیان تصادم میں ایک کارکن کا سر پھٹ گیا۔ مظاہرین کا بنیادی اعتراض بالی گنج حلقے سے روہن مترا کو امیدوار بنانے پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نشست کے لیے پہلے زاہد حسین کا نام طے پایا تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ مبینہ طور پر پیسوں کا لین دین ہوا ہے۔ بدھ کی دوپہر جنوبی کولکتہ کے کانگریس لیڈر زاہد حسین نے ودھان بھون میں داخل ہو کر مطالبہ کیا کہ آنجہانی صوبائی صدر سومین مترا کے بیٹے روہن مترا کی نامزدگی فوری طور پر منسوخ کی جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ خود اس نشست کے حقدار امیدوار ہیں۔ زاہد حسین کے مطابق کانگریس قیادت کے ایک حصے نے کافی پہلے یقین دہانی کرائی تھی کہ اس بار بالی گنج سے انہیں ٹکٹ دیا جائے گا، لیکن انہیں اس بات کا کوئی جواب نہیں ملا کہ روہن کو کیوں امیدوار بنایا گیا۔

Source: PC- anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments