Kolkata

چیف وھپ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد کاکلی گھوش دستی دار مایوس

چیف وھپ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد کاکلی گھوش دستی دار مایوس

باراسات سے ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ کاکلی گھوش دستیدار کو لوک سبھا میں پارٹی کے چیف وہپ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سیاسی حلقوں میں کافی بحث چھڑ گئی ہے۔ ممتا بنرجی کے اس فیصلے کے بعد کاکلی نے سوشل میڈیا پر اپنی مایوسی اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔ عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد کاکلی نے سوشل میڈیا پر لکھا، "76 میں پہچان ہوئی، 84 سے ساتھ چلنا شروع کیا۔ چار دہائیوں کی وفاداری کا آج یہ 'انعام' ملا۔" ان کے اس جملے میں چھپا طنز اور دکھ واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ کاکلی نے یاد دلایا کہ وہ 1976 سے ممتا بنرجی کو جانتی ہیں اور 1984 سے وہ دونوں سیاسی طور پر ایک ساتھ ہیں۔ طالب علمی کی سیاست سے لے کر اب تک وہ چار دہائیوں سے پارٹی کی وفادار رہی ہیں۔ جمعرات کو کالی گھاٹ میں ممتا بنرجی نے ترنمول ارکان پارلیمنٹ کا ایک اہم اجلاس طلب کیا تھا۔ اسی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ کاکلی گھوش دستیدار کی جگہ سری رام پور کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی کو دوبارہ لوک سبھا میں پارٹی کا چیف وہپ مقرر کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کلیان بنرجی ہی اس عہدے پر فائز تھے۔ درمیان میں کچھ عرصے کے لیے یہ ذمہ داری کاکلی کو سونپی گئی تھی۔کاکلی گھوش دستیدار اور ممتا بنرجی کی جان پہچان اس وقت کی ہے جب ممتا یوگمایا دیوی کالج میں تھیں اور کاکلی کلکتہ میڈیکل کالج کی طالبہ تھیں۔ 1984 میں جب ممتا نے جاد پور سے تاریخی جیت حاصل کی تھی، تب سے وہ دونوں سیاسی ساتھی ہیں۔ اتنے طویل عرصے تک ساتھ رہنے کے باوجود اس طرح عہدے سے ہٹایا جانا کاکلی کے لیے ناقابلِ برداشت ہے، جس کا اظہار انہوں نے اپنی پوسٹ میں کیا ہے۔

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments