Kolkata

بی جے پی سرکاری ملازمین کی تنظیم میں قبضے کو لے کر تناﺅ

بی جے پی سرکاری ملازمین کی تنظیم میں قبضے کو لے کر تناﺅ

بی جے پی سرکاری ملازمین کی تنظیم میں قبضے کو لے کر تناﺅ بی جے پی کے حامی سرکاری ملازمین کی تنظیم کے بارے میں الجھن ہے۔ ایک کا نام ہے "سرکاری کرمچاری پریشد، پشچم بنگال"۔ اور دوسرا "پریشد" کے لفظ کو "پری اِشد" کے طور پر علیحدہ استعمال کرتے ہوئے، باقی سب کچھ یکساں رکھ کر بنایا گیا ہے۔ جو ملازمین تنظیم میں موجودہ راجیہ سبھا کے سینئر رکن راہل سنہا کے ہاتھوں قائم ہوئی تھی، پارٹی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد اس کے قبضے کو لے کر اب دو گروہوں میں کشمکش عروج پر ہے اور دونوں ہی اس بات کے ثبوت دینے پر تلے ہوئے ہیں کہ کون اصلی ہے اور کون نقلی۔ پرانی تنظیم کے صدر دیباشیش شیل ایک زمانے میں تری نامول کی سرکاری ملازمین تنظیم کے کور کمیٹی کے رکن تھے۔ جنہوں نے ڈی اے کے معاملے پر حکومت کے خلاف احتجاج کر کے علیحدگی اختیار کی اور بی جے پی کی حمایت یافتہ تنظیم کی باگ ڈور سنبھالی۔ نئی یعنی دوسری تنظیم جس کے ہاتھوں قائم ہوئی، اس کے بانی سندیپ سرکار کچھ دنوں پہلے تک اس پرانی تنظیم کے نائب صدر تھے۔ جنہیں قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گزشتہ اپریل میں جنوبی کولکاتا کے سوجاتا سدن میں پارٹی کا اجلاس بلانے پر معطل کیا گیا ہے، جیسا کہ پہلی تنظیم کے عہدیداروں کا دعویٰ ہے، جس کے صدر دیباشیش شیل ہیں۔ چند دنوں میں تنظیم کا ریاستی اجلاس ہے۔ اس سے قبل تنظیم کی برتری کو لے کر کشیدگی پولیس تک پہنچ گئی ہے اور عدالت تک جانے کا امکان ہے، جیسا کہ خبر ہے۔ کیونکہ اس الجھن میں بی جے پی کے حامی سرکاری ملازمین پہلے ہی ناراض ہیں۔ سندیپ بابو کا الزام ہے کہ پریشد کے صدر کو کافی عرصہ ہو گیا ملازمت سے ریٹائر ہوئے پھر بھی وہ عہدے پر قابض ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے دیباشیش بابو کے خلاف مالی بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے اور تنظیم کی ذمہ داری ایک بدعنوانی میں ملوث سابق سی ایم او ملازم سنجیو پال جیسے معطل افسر کو دینے کی خواہش پر ناراض ہو کر علیحدگی اختیار کی اور ریاست کی حکمران جماعت کے رہنماو¿ں کی حمایت سے نئی تنظیم قائم کرنے کا دعویٰ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی ضلعی کمیٹیاں بن چکی ہیں، چند دنوں میں باقی بھی بن جائیں گی، انہوں نے کہا، "ہماری تنظیم کا رجسٹریشن بھی ہو چکا ہے۔ اور سوجاتا سدن کے اجلاس میں تو راہل سنہا خود آئے تھے۔" دوسری طرف دیباشیش بابو کی قیادت والی پریشد نے ہر ضلع کے ذمہ داروں کی فہرست پیش کر دی ہے۔ ان کے جنرل سکریٹری جیدیپ بھٹاچاریہ نے کہا، "سندیپ بابو وغیرہ نے جو تنظیم بنائی ہے اس کا پتہ انہی کا گھر ہے۔ تو کیا یہ تنظیم ہے! وہ نام کو مسخ کر کے الجھن پھیلا رہے ہیں۔ اصل میں وہ تنظیم کے صدر بننا چاہتے ہیں، جسے اکثریت نہیں مانتی۔ مسئلہ وہیں ہے۔ رجسٹریشن کی بے ضابطگیوں کے حوالے سے ہم نے متعلقہ محکمے کو خط لکھا ہے۔ اس لیے سندیپ بابو کو نوٹس بھی دیا گیا ہے۔" دیباشیش بابو کا دعویٰ ہے، "ڈی اے کیس میں عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات میں تنظیم کی طرف سے میرا نام درج ہے۔ سوجاتا سدن کا اجلاس مکمل جھوٹ کی بنیاد پر بلایا گیا۔ میں نے شمیک بھٹاچاریہ کو فون کیا تو وہ نہیں گئے۔ وہاں کوئی کمیٹی نہیں بنی۔ ہم شمیک بابو سے ملاقات کے منتظر ہیں۔ جب وہ اجازت دیں گے تو اجلاس بلایا جائے گا۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments