Kolkata

بنگال میں بی جے پی کی جیت کے بعد پہلا دن: تشدد، حملے، توڑ پھوڑ اور خواتین کی بے حرمتی کے الزامات

بنگال میں بی جے پی کی جیت کے بعد پہلا دن: تشدد، حملے، توڑ پھوڑ اور خواتین کی بے حرمتی کے الزامات

کولکاتا: مغربی بنگال میں 5 مئی 2026 کی صبح سیاسی منظرنامے میں ایک نئے دور کے آغاز کا پیغام لے کر آئی، مگر اس کے ساتھ ہی ریاست کے مختلف علاقوں سے تشدد، حملوں اور توڑ پھوڑ کی خبریں بھی سامنے آئیں، جنہوں نے ماحول کو کشیدہ بنا دیا۔ شمالی 24 پرگنہ ضلع کے باراسات علاقے میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں بی جے پی کارکنان مسجد پارہ روڈ کا نام بدل کر نیتاجی پلی روڈ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کارکنان سیڑھی لگا کر گیٹ پر درج نام کو توڑ رہے ہیں جبکہ قریب ہی سکیورٹی اہلکار کھڑے نظر آتے ہیں۔ اسی دوران ایک اور ویڈیو نے بھی بحث کو جنم دیا، جس میں کچھ افراد ایک شخص کو سفید ساڑی پہنا کر اس کے ساتھ مارپیٹ کرتے اور اسے سڑک پر گھماتے ہوئے نعرے بازی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کانگریس کی رہنما سپریا شرینیت نے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایک شخص کو ممتا بنرجی جیسا بنا کر اس کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے، جو سیاسی انتقام اور نفرت کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے جمہوری اقدار کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ایک اور ویڈیو میں مبینہ طور پر بی جے پی کارکنان ایک ادھیڑ عمر خاتون کو گھیر کر نعرے بازی کرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ سکیورٹی اہلکار خاموش تماشائی بنے کھڑے ہیں۔ اس طرح کے واقعات نے ریاست میں خواتین کی سلامتی اور قانون و نظم کی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 4 مئی کی شام نئی دہلی میں بی جے پی ہیڈکوارٹر میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ یہ بنگال کے مستقبل کے ایک نئے باب کی شروعات ہے، جہاں بدلے کی سیاست نہیں بلکہ بدلاؤ کی بات ہونی چاہیے۔ انہوں نے تشدد کے خاتمے اور مثبت سیاست کی اپیل بھی کی تھی، تاہم زمینی سطح پر سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز ایک مختلف کہانی بیان کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ترنمول کانگریس کے رہنما کنال گھوش نے بھی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کیا، جس میں کولکاتا کے بیلیاگھاٹ علاقے میں پارٹی دفتر پر حملہ اور توڑ پھوڑ کا منظر دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں کچھ افراد ایک شخص کو گھسیٹتے ہوئے لاتے ہیں اور اس کے ساتھ مارپیٹ کرتے ہیں۔ اسی طرح دیگر ویڈیوز میں بھی مبینہ طور پر لاٹھیوں سے لیس افراد گلیوں میں گھومتے، لوگوں کو دھمکاتے اور دروازوں پر کھڑے افراد کو نشانہ بناتے دکھائی دیتے ہیں۔ بی جے پی کی جیت کے بعد ریاست میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کی دوڑ میں شامل سوویندو ادھیکاری کا ایک بیان بھی وائرل ہو رہا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ انہیں نندی گرام کے ہندوؤں نے ووٹ دیا ہے جبکہ مسلمانوں کا ووٹ مکمل طور پر ترنمول کانگریس کو ملا۔ ان کے اس بیان کو بھی سیاسی حلقوں میں مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے اور اسے ریاست میں فرقہ وارانہ تقسیم سے جوڑ کر تنقید کی جا رہی ہے۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران بنگال کے مختلف علاقوں میں تشدد کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ترنمول کانگریس کے مطابق بیلی، علی پور دوار، جلپائی گوڑی، مانیک تلا، آسنسول، سلی گوڑی اور بہرام پور سمیت کئی علاقوں میں پارٹی دفاتر پر حملے، آگ زنی اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ 4 مئی کو نتائج کے دن بھی پارٹی امیدواروں اور کارکنوں کو نشانہ بنانے کے الزامات سامنے آئے تھے۔ ادئے نارائن پور میں ترنمول امیدوار سمیر پانجا پر حملے کی خبر بھی سامنے آئی۔ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ سایونی گھوش نے ایکس پر لکھا کہ ’’پورے بنگال میں مسلسل توڑ پھوڑ جاری ہے۔ سڑکوں پر سناٹا ہے اور ماحول افسردہ ہے۔ ایک کے بعد ایک پارٹی دفاتر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، مرکزی فورسز کی موجودگی میں ہی امیدواروں اور کارکنوں پر جسمانی حملے ہو رہے ہیں۔ دکانیں زبردستی بند کرائی جا رہی ہیں، ’ماں کینٹین‘ کو توڑا جا رہا ہے۔ موٹر سائیکلوں پر سوار لوگ نعرے لگاتے ہوئے گھوم رہے ہیں، لاؤڈ اسپیکر پر قابل اعتراض گانے بجائے جا رہے ہیں اور سیاسی جیت کے نام پر سماج کے ہر طبقے کے مردوں اور خواتین کو دھمکایا جا رہا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہی وہ ’سونار بنگلہ‘ ہے، جس کے لیے بنگال کے لوگوں نے ووٹ دیا تھا۔‘‘

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments