Kolkata

بنگال حکومت کا دراندازی کے خلاف 'پتہ لگاو، ہٹاو اور واپس بھیجو' پالیسی نافذ کرنے کا اعلان

بنگال حکومت کا دراندازی کے خلاف 'پتہ لگاو، ہٹاو اور واپس بھیجو' پالیسی نافذ کرنے کا اعلان

کولکاتہ، 20 مئی : مغربی بنگال حکومت نے بدھ کے روز بنگلہ دیش سے غیر قانونی دراندازی روکنے کے مقصد سے کئی اہم اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے 'پتہ لگاو، ہٹا¶ اور واپس بھیجو' پالیسی کو فوری طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے ریاستی سیکریٹریٹ نبنا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سرحد پر باڑ لگانے کے کام کے لیے بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کو اضافی زمین بھی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے بھارت-بنگلہ دیش سرحد کے 27 کلومیٹر طویل حصے کی زمین باضابطہ طور پر بی ایس ایف کے حوالے کر دی ہے تاکہ سرحدی باڑ لگانے کے کام میں تیزی لائی جا سکے ۔ ان کے مطابق یہ اقدام سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے ''ایک بڑی مہم کا آغاز'' ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ مرکزی سکیورٹی فورسز کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ شوبھیندو ادھیکاری نے سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس حکومت پر 'تشٹی کرن کی سیاست' کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومت نے سرحدی باڑ بندی کے لیے ضروری زمین فراہم نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف کافی عرصے سے حساس سرحدی علاقوں میں باڑ مکمل کرنے کے لیے زمین کا مطالبہ کر رہی تھی، لیکن اس وقت کی حکومت نے اس پر کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تقریباً 4000 کلومیٹر طویل سرحد ہے ، جس میں سے لگ بھگ 2200 کلومیٹر حصہ مغربی بنگال میں واقع ہے ۔ ان میں سے تقریباً 1600 کلومیٹر علاقے میں باڑ لگائی جا چکی ہے ، جبکہ 600 کلومیٹر حصے میں کام ابھی باقی ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق حکومت اس منصوبے کے لیے درکار تقریباً 555 کلومیٹر زمین فراہم کر سکتی تھی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ شوبھیندو ادھیکاری نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت مرکزی حکومت کے 'واپس بھیجو' پروٹوکول کو فوری طور پر نافذ کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں ریاست کو خط لکھ کر اس پالیسی پر عمل درآمد کی ہدایت دی تھی، لیکن اُس وقت کی ریاستی حکومت نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ نئے نظام کے تحت ریاستی پولیس مبینہ 'غیر قانونی دراندازوں' کی شناخت کر کے انہیں حراست میں لے گی اور بعد میں بی ایس ایف کے حوالے کرے گی۔بی ایس ایف طے شدہ سفارتی اور سکیورٹی ضابطوں کے مطابق بنگلہ دیشی سرحدی حکام کے ساتھ رابطہ قائم کر کے انہیں واپس بھیجنے کی کارروائی مکمل کرے گی۔

Source: UNi news

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments