ایک پرانی کہاوت ہے کہ ہار کر جیتنے والے کو بازی گر کہتے ہیں، لیکن بنگال اسمبلی انتخاب میں کئی سیٹوں پر ’نوٹا‘ ہی بازیگر نکلا۔ ای وی ایم کا وہ آخری بٹن جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اس نے اس بار بنگال کی کئی سیٹوں پر ایسا کھیل کیا ہے کہ ہارنے والے امیدوار اپنا سر پکڑ کر بیٹھے ہوں گے۔ معاملہ بڑا دلچسپ ہے اور تھوڑا پیچیدہ بھی۔ جمہوریت میں عوام ہی سب کچھ ہوتی ہے، لیکن جب عوام کا ایک حصہ ہاتھ جوڑ کر کہہ دے کہ صاحب، ہمیں آپ میں سے کوئی پسند نہیں تو سمجھ لیجیے کہ ہار جیت کے تمام اعداد و شمار بگڑنے والے ہیں۔ بنگال کی ست گچھیا، جنگی پاڑہ، اندس اور رینا اسمبلی سیٹوں پر جو کچھ بھی ہوا ہے، وہ کسی سسپنس والی فلمی کہانی سے کم نہیں ہے۔ یہاں جیت کا سہرا کسی اور کے سر بندھ سکتا تھا، لیکن عوام کی ایک خاموش ناراضگی نے پوری بازی ہی پلٹ دی ہے۔ آسان زبان میں کہیں تو ان سیٹوں پر ’نوٹا‘ نے وہ کام کر دکھایا جو اپوزیشن پارٹیاں بھی نہ کر سکیں۔ یہاں ہار جیت کا فرق اتنا معمولی ہے کہ اگر نوٹا دبانے والے چند ووٹرس بھی کسی ایک طرف مائل ہو جاتے، تو ان حلقوں کے نتائج کچھ اور ہی ہوتے۔ آئیے اب جانتے ہیں کہ نوٹا نے ہار جیت میں کیا اہم کردار ادا کیا ہے۔ ست گچھیا اسمبلی سیٹ پر بی جے پی کے اگنی سور نسکر نے ٹی ایم سی کی سومشری بیتال کو ہرا تو دیا، لیکن جیت کا فرق محض 401 ووٹ ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اسی نشست پر 1654 لوگوں نے نوٹا کا بٹن دبایا ہے۔ یعنی جیت کے فرق سے 4 گنا زیادہ لوگوں نے کہہ دیا کہ ہمیں کوئی پسند نہیں۔ کچھی ایسی ہی کہانی جنگی پاڑہ سیٹ پر بھی نظر آتی ہے، جہاں بی جے پی کے پراسین جیت باغ نے ٹی ایم سی کے سنیہاشیش چکرورتی کو 862 ووٹوں کے معمولی فرق سے شکست دے دی۔ یہاں 2388 ووٹرس نے نوٹا کا بٹن دبایا تھا۔ واضح رہے کہ اندس اور رینا اسمبلی سیٹوں کی کہانی بھی ست گچھیا اور جنگی پاڑہ کی جیسی ہی رہی۔ یہاں بھی انتخابی اعداد و شمار نے سب کو چونکا دیا۔ اندس میں بی جے پی کے نرمل کمار نے محض 900 ووٹوں سے جیت تو درج کی، لیکن وہاں 1582 لوگوں نے کسی کو بھی اپنا نمائندہ تسلیم نہیں کیا۔ اگر رینا اسمبلی سیٹ کی بات کریں تو یہاں بی جے پی کے سبھاش پاترا نے 834 ووٹوں سے بازی تو مار لی، لیکن یہاں بھی 1442 لوگوں نے نوٹا کا بٹن دبانا ہی بہتر سمجھا۔ ان دونوں سیٹوں پر بھی نوٹا نے ٹی ایم سی کو زبردست جھٹکا دیا۔ قابل ذکر ہے کہ 4 مئی کو آئے اسمبلی انتخاب کے نتائج میں بی جے پی نے 207 سیٹوں پر جیت حاصل کر تاریخ رقم کر دی۔ اس کے ساتھ ہی ممتا بنرجی کے اس 15 سالہ طویل اقتدار کا خاتمہ ہو گیا ہے، جو 20 مئی 2011 سے مسلسل چلا آ رہا تھا۔ سب سے بڑا الٹ پھیر بھبانی پور سیٹ پر ہوا، جہاں بی جے پی کے سویندو ادھیکاری نے ممتا بنرجی کو شکست دی۔ اس الیکشن میں ٹی ایم سی کو محض 80 سیٹوں پر کامیابی حاصل ہو پائی ہے۔
Source: social media
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی