Kolkata

بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان ووٹوں کا مجموعی فرق تقریباً 32 لاکھ ہے

بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان ووٹوں کا مجموعی فرق تقریباً 32 لاکھ ہے

سپریم کورٹ میں بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج اور ووٹر لسٹوں سے نام نکالے جانے کے حوالے سے ایک اہم سماعت ہوئی، جس میں ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور سینئر وکیل کلیان بنرجی نے الیکشن پٹیشن دائر کرنے کی اجازت طلب کی۔ جیت ہار کا فرق اور زیر التواءدرخواستیںکے سلسلے میں کلیان بنرجی نے عدالت میں اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا۔ ریاست میں بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان ووٹوں کا مجموعی فرق تقریباً 32 لاکھ ہے۔ٹریبونل میں 35 لاکھ ایسے نام ہیں جن کی درخواستیں (SIR کے تحت) ابھی زیر التواء ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ 31 نشستیں ایسی ہیں جہاں ہار جیت کا فیصلہ انہی ناموں کی وجہ سے ہوا جو لسٹ سے نکالے گئے یا جن کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے مثال دی کہ ایک سیٹ پر ان کا امیدوار 862 ووٹوں سے ہارا، جبکہ وہاں 5 ہزار نام کاٹے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل ڈی ایس نائیڈو نے کہا کہ اس بنیاد پر الیکشن پٹیشن فائل کی جا سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے کلیان بنرجی سے کہا۔ عدالت نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اس معاملے پر ایک علاحدہ انٹرلوکیوٹری ایپلی کیشن دائر کریں، جس کے بعد عدالت کمیشن کا موقف سن کر فیصلہ دے گی۔ کولکتہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ٹی ایس سیوگننم نے ٹریبونل سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس پر چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ اگر کوئی ذاتی وجوہات پر استعفیٰ دیتا ہے تو عدالت کچھ نہیں کر سکتی۔کلیان بنرجی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ان ناموں کا فیصلہ جلد نہ ہوا تو اگلے سال ہونے والے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات بھی متاثر ہوں گے۔ ٹی ایم سی کی ایک اور وکیل مینکا گرو سوامی نے کہا کہ اس رفتار سے عمل مکمل ہونے میں 4 سال لگ جائیں گے۔ عدالت نے اس پر کولکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رپورٹ طلب کرنے کا اشارہ دیا ہے۔

Source: PC-tv9bangla

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments