Kolkata

بنگال میں کمل کھلتا ہے تو سہرا مودی-شاہ کے سر، لیکن اگر ہار ہوئی تو ذمہ دار کون؟

بنگال میں کمل کھلتا ہے تو سہرا مودی-شاہ کے سر، لیکن اگر ہار ہوئی تو ذمہ دار کون؟

بنگال کے 2026 کے اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے سے پہلے ہی بی جے پی کے اندرونی حلقوں میں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے: اگر بنگال میں کمل کھلتا ہے تو سہرا مودی-شاہ کے سر، لیکن اگر ہار ہوئی تو ذمہ دار کون؟ریاستی بی جے پی کے اندر اس بات پر چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں کہ اس بار پورے انتخابی مہم کی باگ ڈور براہِ راست مرکزی قیادت کے ہاتھ میں تھی، اس لیے نتائج کی ذمہ داری بھی اسی سطح پر طے ہونی چاہیے۔پی ایم مودی نے اس بار بنگال میں کسی 'ڈیلی پیسنجر' کی طرح دورے کیے۔ انہوں نے 24 سے زائد جلسے اور 4 بڑے روڈ شو کیے۔ یہاں تک کہ انہوں نے کولکتہ میں قیام بھی کیا، جو کسی وزیر اعظم کے لیے غیر معمولی بات ہے۔وزیر داخلہ امیت شاہ نے تو بنگال کو اپنا مرکز ہی بنا لیا تھا۔ وہ ایک ہفتے سے زیادہ وقت تک کولکتہ میں ڈیرے ڈالے رہے اور تقریباً 40 جلسے اور روڈ شو کیے۔ انہوں نے وار روم میں بیٹھ کر پہلے مرحلے کی نگرانی سے لے کر پارٹی دفتر میں اسٹریٹجی بنانے تک، ہر کام خود سنبھالا۔ بی جے پی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ اس بار بنگال میں بی جے پی کا واحد چہرہ نریندر مودی تھے اور سپہ سالار امیت شاہ، اس لیے جیت کی صورت میں تمام کریڈٹ انہی دونوں لیڈروں کو جائے گا۔ لیکن اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ:اگر 4 مئی کے نتائج امید کے مطابق نہ رہے، تو کیا مرکزی قیادت اس کی ذمہ داری قبول کرے گی؟کیا ہار کا ملبہ ایک بار پھر ریاستی قیادت یا مقامی تنظیم پر گرا دیا جائے گا؟

Source: PC-anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments