Kolkata

بنگال میں سی اے اے کے نفاذ سے لوگ گھبرائے ہوئے ہیں

بنگال میں سی اے اے کے نفاذ سے لوگ گھبرائے ہوئے ہیں

مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کی شناخت، انہیں حراست میں لینے اور بی ایس ایف کے ذریعے واپس بھیجنے کا عمل شروع کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے 14 مئی 2025 کو اس سلسلے میں احکامات جاری کیے تھے، لیکن پچھلی حکومت نے ان پر عمل درآمد نہیں کیا، جسے موجودہ حکومت اب نافذ کر رہی ہے۔ تاہم، 31 دسمبر 2014 سے پہلے بھارت آنے والے اور شہریت (ترمیمی) ایکٹ، 2019 کے تحت شہریت کے لیے اہل افراد اس کارروائی کے دائرے سے باہر ہوں گے۔ انتخابی فہرستوں سے نام خارج ہونے کے بعد کئی مسلم خاندانوں میں حراست یا ملک بدری کا شدید خوف پیدا ہو گیا ہے۔ جائز دستاویزات ہونے کے باوجود نام نکالے جانے اور مستقبل کی تحقیقات میں ان دستاویزات کے قابلِ قبول ہونے پر متاثرہ خاندان گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔ سرحدی ضلع مرشد آباد میں اس طرح نام نکالے جانے کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ کولکتہ کی ایک خاتون نے بتایا کہ پاسپورٹ، پین کارڈ اور جائیداد کے کاغذات ہونے کے باوجود ان کا نام ووٹر لسٹ سے کاٹ دیا گیا ہے۔ وہ اور ان کے والد دونوں کولکتہ ہی میں پیدا ہوئے اور وہ 2016 سے ووٹ ڈال رہی ہیں۔ فی الحال وہ اس معاملے پر ایک وکیل سے مشاورت کر رہی ہیں۔ بھگوان گولا کی ایک 32 سالہ اکیلی ماں جو بہرام پور میں ملازمت کرتی ہیں، نے بتایا کہ ایک ہی خاندان کے بہن بھائیوں میں سے صرف ان کا اور ان کی بڑی بہن کا نام خارج کیا گیا ہے۔ انہوں نے ٹربیونل میں آن لائن اپیل دائر کر دی ہے۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "ہم غریب ہو سکتے ہیں، لیکن ہم ہندوستانی ہیں۔"

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments