Kolkata

بنگال میں بہار ماڈل، ووٹوں کی گنتی کی رفتار انتہائی سست کر دی گئی

بنگال میں بہار ماڈل، ووٹوں کی گنتی کی رفتار انتہائی سست کر دی گئی

بنگال میں بہار ماڈل، ووٹوںکی گنتی کی رفتار انتہائی سست کر دی گئی 2026 کے اسمبلی انتخابات میں ریاست میں تبدیلی کے آثار واضح ہو رہے ہیں۔ دوپہر 12 بجے تک کے رجحانات کے مطابق، ترنمول کے کئی امیدوار، بشمول سبکدوش ہونے والے وزراءاور طاقتور رہنما، سخت مقابلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ کئی مقامات پر گنتی کی رفتار انتہائی سست ہے، جس پر حکمراں جماعت نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے اسے ’بہار ماڈل‘ سے تعبیر کیا ہے۔ ترنمول کا الزام ہے کہ جان بوجھ کر گنتی کی رفتار سست کر کے بنگال میں بہار ماڈل نافذ کیا جا رہا ہے۔ صرف 13 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے ترنمول نے کہا کہ بی جے پی کاو¿نٹنگ ایجنٹوں کا حوصلہ توڑنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور کمیشن ان کے اشاروں پر عمل کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ ممتا بنرجی نے بھی ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے یہ سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: "کمیشن 100 سے زائد نشستوں کے نتائج درست طریقے سے ظاہر نہیں کر رہا۔ لیکن کوئی بھی ایجنٹ ہمت نہ ہارے، آخری وقت تک گنتی کی میز پر ڈٹے رہنا ہے۔" ترنمول جس بہار ماڈل کا ذکر کر رہی ہے، اس کا مطلب گنتی کے عمل کو اس حد تک سست کرنا ہے کہ مخالف ایجنٹ تھک کر یا مایوس ہو کر مرکز چھوڑ دیں، جس کا فائدہ اٹھا کر شکست کے دہانے پر کھڑی جماعت دھاندلی کی کوشش کر سکے۔ ترنمول کے مطابق 2020 کے بہار انتخابات میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ تاہم، ’سست گنتی‘ کے الزامات پر اسپیشل آبزروer سبرت گپتا نے کہا کہ گنتی کمیشن کے قواعد کے مطابق ہو رہی ہے۔ اس بار کے قوانین کچھ پیچیدہ ہیں، اس لیے اسے جان بوجھ کر کی جانے والی تاخیر نہیں کہا جا سکتا۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments