مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے عین قبل سیاسی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تحریک آزادی کے عظیم رہنما نیتا جی سبھاش چندر بوس کے پڑپوتے چندر کمار بوس نے بھارتیہ جنتا پارٹی چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ان کے اس فیصلے کو انتخابی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب ریاست میں انتخابی مہم اپنے عروج پر ہے۔ چندر بوس اس سے قبل بی جے پی کے ٹکٹ پر 2016 میں بھوانی پور اسمبلی سیٹ سے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خلاف الیکشن لڑ چکے ہیں، تاہم انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب انہوں نے اسی انتخابی میدان کے درمیان پارٹی تبدیل کر کے ٹی ایم سی کا دامن تھام لیا ہے، جس سے سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ بھوانی پور اسمبلی سیٹ ریاست کی انتہائی اہم اور ہائی پروفائل نشستوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس مرتبہ بھی ممتا بنرجی اسی حلقے سے میدان میں ہیں، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان کے مقابلے میں اپوزیشن لیڈر سوویندو ادھیکاری کو امیدوار بنایا ہے۔ اس نشست پر سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے اور دونوں بڑی جماعتیں اسے اپنی ساکھ کا مسئلہ سمجھ رہی ہیں۔ چندر بوس نے کولکاتا میں ٹی ایم سی دفتر میں پارٹی میں شمولیت اختیار کی، جہاں ان کے ساتھ پارٹی کے سینئر رہنما کیرتی آزاد اور وزیر براتیہ باسو بھی موجود تھے۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی میں شامل ہونا ان کی ایک بڑی غلطی تھی، جسے انہوں نے اب درست کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ملک کے آئین اور نیتا جی کے اصولوں کے خلاف کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق وہ بی جے پی میں رہتے ہوئے نیتا جی کے نظریات کے مطابق کام نہیں کر سکے، کیونکہ پارٹی کی پالیسیوں میں اس کی گنجائش نہیں تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے لیے نظریاتی ہم آہنگی بہت اہم ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے ٹی ایم سی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ چندر بوس نے مزید کہا کہ بی جے پی کی سوچ بنگال کی تاریخ اور ثقافت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں فرقہ وارانہ سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ ہندوستان کی اصل شناخت مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور یکجہتی ہے۔ ان کے مطابق یہی اقدار نیتا جی سبھاش چندر بوس کی فکر کا بھی حصہ تھیں، جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2016 میں بی جے پی میں شامل ہوتے وقت انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ نیتا جی کے اصولوں کے مطابق کام کریں گے، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اب انہوں نے ایک نئی شروعات کرتے ہوئے ٹی ایم سی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چندر بوس نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف بنگال بلکہ پورا ملک ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ سب لوگ متحد ہو کر ان چیلنجز کا مقابلہ کریں اور ملک کو ایک مثبت سمت میں لے جائیں۔ ان کے اس قدم کو ٹی ایم سی کی جانب سے ایک اہم سیاسی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
Source: social media
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی