کولکتہ ہائی کورٹ نے بیلڈنگا میں جاری حالیہ بدامنی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے عدالت نے مرشد آباد کے ایس پی (SP) اور ڈی ایم (DM) کو تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ہائی کورٹ نے واضح حکم دیا ہے کہ مرشد آباد میں پہلے سے تعینات مرکزی فورسز کو بیلڈنگا کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
چیف جسٹس کے بینچ نے کہا کہ این آئی اے سے تحقیقات کرانے کا فیصلہ خود مرکزی حکومت کرے گی۔ عدالت نے مقامی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوری کارروائی کرے۔چند روز قبل جھارکھنڈ میں ایک مزدور کی پراسرار موت کے بعد بیلڈنگا میں حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔ مشتعل ہجوم نے سڑکیں اور ریلوے ٹریک بلاک کر دیے، توڑ پھوڑ کی اور صحافیوں پر بھی تشدد کیا۔ اس کے خلاف اپوزیشن لیڈر شبھیندو ادھیکاری اور دیگر نے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضیاں دائر کی تھیں۔
شبھیندو ادھیکاری کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ احتجاج کے نام پر عوامی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور قومی شاہراہ بند کر دی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ضلع میں مرکزی فورسز موجود ہونے کے باوجود ریاستی انتظامیہ انہیں استعمال نہیں کر رہی ہے، جیسا کہ گزشتہ سال جولائی میں اسی طرح کے حالات میں کیا گیا تھا۔
کولکتہ ہائی کورٹ نے بیلڈنگا میں جاری حالیہ بدامنی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے عدالت نے مرشد آباد کے ایس پی (SP) اور ڈی ایم (DM) کو تمام ضروری اقد...
Source: PC- sangbadpratidin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments