Kolkata

بنکم چندر چٹوپادھیائے کے گھر والے بی جے پی میں شامل

بنکم چندر چٹوپادھیائے کے گھر والے بی جے پی میں شامل

کولکاتا26فرور ی برصغیر کے نامور ادیب بنکم چندر چٹوپادھیائے کی فیملی کے رکن کا بی جے پی میں شامل ہونا، کیا بی جے پی 'بنکم دا' کے زخم پر مرہم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے؟ 'وندے ماترم' کے 150 سال مکمل ہونے کے موقع پر پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے بنکم چندر چٹوپادھیائے کو 'بنکم دا' کہہ کر مخاطب کیا تھا۔ بنگال کی عظیم شخصیت کی اس طرح توہین کرنے کے الزام میں بی جے پی کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس واقعے کے محض چند ماہ بعد بنکم خاندان کے رکن سمترا چٹوپادھیائے بنگال بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں۔ جمعرات کو سالٹ لیک میں بی جے پی کے دفتر میں مرکزی وزیر بھوپیندر یادو اور بنگال بی جے پی کے صدر شمیک بھٹاچاریہ کی موجودگی میں انہوں نے پارٹی کا پرچم تھام لیا۔ مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کیا 'بنکم دا' والے تنازع کے اثرات کو ختم کرنا بی جے پی کا ہدف ہے؟ اس حوالے سے سیاسی حلقوں میں زور و شور سے بحث جاری ہے۔ بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد سمترا چٹوپادھیائے نے ریاستی حکومت کی روزگار کی پالیسی پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا، "ایمپلائمنٹ ایکسچینج سے وابستہ لاکھوں نوجوانوں کا ڈیٹا ایک انتظامی حکم کے ذریعے مٹا دیا گیا۔ اس کے بدلے ایمپلائمنٹ بینک بنایا گیا، جہاں تقریباً 40 لاکھ نوجوانوں نے رجسٹریشن کرائی تھی۔ بعد میں 'یووا شری' اسکیم شروع کی گئی جسے بعد میں بند کر دیا گیا۔ فی الحال بے روزگار نوجوانوں کے لیے 'یووا ساتھی' اسکیم شروع کی گئی ہے، جو نوجوانوں کے لیے حقیقی روزگار کی ضرورت کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔" سمترا بابو کو پارٹی کا پرچم تھمانے کے بعد مرکزی وزیر بھوپیندر یادو نے کہا، "بنکم چندر چٹوپادھیائے کا تخلیق کردہ وندے ماترم ملک میں قوم پرستی اور حب الوطنی کے جذبے کو تقویت دیتا ہے۔ بنکم چندر چٹوپادھیائے کے نظریات اور قوم پرستانہ سوچ مغربی بنگال کو 'ترقی یافتہ بنگال' بنانے کی راہ میں تحریک فراہم کرے گی۔ یہ شمولیت مثبت سیاسی اور سماجی تبدیلی کو مزید مضبوط کرے گی۔"

Source: PC- sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments