کولکاتہ، 6 جون:مغربی بنگال کے بھانگر دھماکہ معاملہ میں گرفتار سابق ترنمول کانگریس رکنِ اسمبلی شوکت ملا کو خصوصی عدالت نے ہفتہ کے روز 14 دن کے لیے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے ) کی حراست میں بھیج دیا۔مرکزی تحقیقاتی ایجنسی نے انہیں ایک روز قبل گرفتار کیا تھا۔ عدالت میں این آئی اے نے م¶قف اختیار کیا کہ اگرچہ شوکت ملا اب رکنِ اسمبلی نہیں ہیں، تاہم علاقے میں ان کا اثر و رسوخ اب بھی برقرار ہے اور رہائی کی صورت میں وہ تحقیقات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ ایجنسی کی دلیل سے اتفاق کرتے ہوئے عدالت نے انہیں این آئی اے کی تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا۔ این آئی اے کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے اشارے ملے ہیں کہ بھانگر دھماکے کے بعد شوکت ملا نے فون کے ذریعے متعدد ہدایات جاری کی تھیں۔ ایجنسی نے عدالت کو بتایا کہ گرفتاری کے بعد ان کے موبائل فون سے ان رابطوں اور پیغامات سے متعلق اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ تحقیقاتی ادارے کا دعویٰ ہے کہ 19 مارچ کو پیش آنے والے دھماکے کے بعد کی صورتحال کو سنبھالنے اور واقعے سے منسلک افراد کے درمیان رابطہ قائم رکھنے میں شوکت ملا کا کردار رہا تھا۔ دوسری جانب دفاعی وکیل نے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے م¶کل کا دھماکے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ وکیل کے مطابق واقعے کے وقت شوکت ملا دھماکے کی جگہ سے تقریباً 40 کلومیٹر دور اپنے ذاتی کاموں میں مصروف تھے ۔ دفاعی فریق نے عدالت میں م¶قف اختیار کیا کہ ان کے م¶کل کا نہ تو براہِ راست اور نہ ہی بالواسطہ طور پر اس واقعے سے کوئی تعلق ہے ۔ وکیل نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جو شخص مسلسل پولیس نگرانی میں رہتا ہو اور جسے اعلیٰ سطح کی سکیورٹی حاصل ہو، وہ خفیہ طور پر ایسی سرگرمیوں میں کیسے ملوث ہو سکتا ہے ۔ این آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ شوکت ملا ان متعدد افراد کے مسلسل رابطے میں تھے جو مبینہ طور پر دھماکے کے وقت بم تیار کرتے ہوئے زخمی ہوئے تھے ۔ ایجنسی کے مطابق کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ان کا متعدد گرفتار شدگان اور زیرِ تفتیش افراد سے مسلسل رابطہ تھا۔ایجنسی نے الزام عائد کیا کہ انہی رابطوں کے ذریعے ہدایات پہنچائی جا رہی تھیں، اسی لیے شوکت ملا کا کردار تحقیقات کے لیے انتہائی اہم ہے ۔ این آئی اے نے بتایا کہ ان کا موبائل فون ضبط کرکے فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور اس کی رپورٹ سے کئی اہم شواہد سامنے آنے کی توقع ہے ۔ تحقیقاتی ادارے کے مطابق معاملے کی تفتیش ایک نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور دھماکے کی سازش، رابطوں کے نیٹ ورک اور ملزمان کے کردار کا پتہ لگانے کے لیے شوکت ملا سے تفصیلی پوچھ گچھ ضروری ہے ۔
Source: UNI NEWS
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی