Kolkata

آئی پیک معاملے پرسپریم کورٹ آف انڈیا کا سخت سوال، کیا بنگال میں ناکام ہوچکا ہے آئینی نظام؟ ای ڈی سے وضاحت طلب

آئی پیک معاملے پرسپریم کورٹ آف انڈیا کا سخت سوال، کیا بنگال میں ناکام ہوچکا ہے آئینی نظام؟ ای ڈی سے وضاحت طلب

نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا نے جمعرات کو آئی پیک (انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی) معاملے کی سماعت کے دوران سخت ریمارکس دیتے ہوئے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) سے سوال کیا کہ کیا وہ مغربی بنگال میں آئینی ڈھانچے کی مکمل ناکامی کا دعویٰ کر رہی ہے؟ عدالت نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو اس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب عدالت ای ڈی کی اس عرضی پر سماعت کر رہی تھی، جس میں آئی پیک کے خلاف کارروائی کے دوران وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر جانچ میں مداخلت کا الزام لگایا گیا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے ای ڈی کے موقف پر سنجیدہ تشویش کا اظہار کیا۔ ای ڈی کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ ایجنسی صرف ریاست میں قانون و انتظام کی بگڑتی صورتحال کی بات کر رہی ہے، نہ کہ آئینی ڈھانچے کی مکمل ناکامی کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ای ڈی ایسی کوئی دلیل پیش نہیں کررہی۔ عدالت کی یہ آبزرویشن اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 356 کے تحت کسی ریاست میں آئینی نظام کی ناکامی صدر راج نافذ کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ فی الحال اس معاملے کی سماعت جاری ہے اور اگلی سماعت جمعہ کو مقرر کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 8 جنوری کو آئی پیک کے دفتر اور پرتیک جین کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا، جو مبینہ کوئلہ اسمگلنگ گھوٹالے سے جڑی منی لانڈرنگ جانچ کا حصہ تھا۔ ای ڈی نے الزام لگایا کہ ممتا بنرجی چھاپے کے دوران وہاں پہنچیں اور اہم شواہد ہٹا دیے، جبکہ ٹی ایم سی حکومت نے ان کارروائیوں کو سیاسی قرار دیتے ہوئے انتخابات سے قبل پارٹی کو کمزور کرنے کی کوشش بتایا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments