Kolkata

اپوزیشن نے بنگال کے بجٹ کو 'بے سمت' قرار دیا، اقلیتی فنڈ میں کٹوتی اور ترقیاتی دعووں پر سوالات

اپوزیشن نے بنگال کے بجٹ کو 'بے سمت' قرار دیا، اقلیتی فنڈ میں کٹوتی اور ترقیاتی دعووں پر سوالات

کولکاتہ، 22 جون: مغربی بنگال حکومت کے بجٹ پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے حکومت کے ترقیاتی دعووں، صنعتی پالیسی اور روزگار سے متعلق وعدوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔اقلیتی امور کے محکمے کے بجٹ میں کی گئی کٹوتی ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن گئی ہے ۔ اپوزیشن رہنما¶ں کا الزام ہے کہ یہ اقدام حکومت کے جامع اور مساوی ترقی کے دعوے کے منافی ہے ۔ اسمبلی میں بجٹ پر تنقید کی قیادت کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کے چیف وہپ اخرالزمان نے حکمراں جماعت کے نعرے ''سب کا ساتھ، سب کا وکاس'' کو نشانہ بناتے ہوئے اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا، ''اقلیتی بجٹ میں کمی واضح طور پر سوتیلا رویہ ظاہر کرتی ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حقیقت میں 'سب کا ساتھ، سب کا وکاس' پر عمل نہیں ہوا۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔'' ترنمول کانگریس کے رہنما مدن مترا نے بھی اسی نوعیت کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اقتدار میں آنے سے پہلے ''سب کا ساتھ، سب کا وکاس'' کا نعرہ لگاتی تھی، لیکن اس کے پہلے ہی بجٹ سے ظاہر ہو گیا ہے کہ وہ تمام طبقات کی ترقی نہیں چاہتی بلکہ صرف چند مخصوص حلقوں کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے ۔ترنمول کے باغی رکن اسمبلی رتبرت بنرجی نے بھی بجٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے کوئی واضح مالی تخصیص نہیں کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا، ''بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے بغیر رقم عوام تک نہیں پہنچ سکتی۔ لوگوں کی قوتِ خرید اسی وقت بڑھے گی جب ان کی جیب میں پیسہ ہوگا۔ حکومت اگرچہ انفراسٹرکچر کی ترقی کی بات کرتی ہے ، لیکن بجٹ میں اس کے لیے کتنی رقم مختص کی گئی ہے ، اس کی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں۔'' انہوں نے صنعتی شعبے پر ریاستی نگرانی برقرار رکھنے کی حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مناسب نگرانی کے بغیر مستقبل میں سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ سی پی آئی ایم کے رہنما وکاس رنجن بھٹاچاریہ نے زمین کی زیادہ سے زیادہ ملکیت سے متعلق قانون پر نظرِ ثانی کی حکومتی تجویز پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا، ''ابھی پوری تصویر واضح نہیں ہے ، لیکن یہ اندیشہ موجود ہے کہ صنعت کاری کے نام پر یہ زمینیں زمین کے کاروبار سے وابستہ افراد کے حوالے کر دی جائیں گی۔''انہوں نے حکومت کے ایک لاکھ ملازمتوں کے وعدے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ''حکومت نے ایک لاکھ نوکریوں کا اعلان تو کیا ہے ، لیکن اس کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی۔ یہ محض نمائشی اعلان ہے ۔ اس بجٹ میں کوئی واضح سمت نظر نہیں آتی۔''

Source: uni news

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments