کولکاتا، 26 اپریل : ایک شدید گرم اتوار کی دوپہر ممتا بنرجی اپنی مخصوص ربڑ کی چپلوں اور سادہ سفید ساڑھی میں، جس پر ہلکی سی بارڈر تھی، اپنے حلقہ بھوانی پور کے قلب میں واقع چکرا بیریا میں نظر آئیں۔ وہ گزشتہ رات بی جے پی کارکنوں کی جانب سے لا¶ڈ اسپیکر کے استعمال کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنی انتخابی میٹنگ چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ ہجوم کے نعروں کے درمیان جب ایک بزرگ سکھ شخص نے آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ تھاما تو بنرجی ایک بار پھر 'گلیوں کی لڑاکا سیاستدان' کے طور پر سامنے آئیں، جو مغربی بنگال میں بی جے پی کی طاقتور مہم کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ پدیاترا کے دوران، جو لینز ڈا¶ن سے کالی گھاٹ فائر اسٹیشن تک نکالی گئی، وہ پولیس سے کہتی سنائی دیں، "انہیں آنے دیں، میں سب کو جانتی ہوں۔" کالی گھاٹ میں ہی ان کی رہائش گاہ ہے ، اور جنوبی کولکاتا میں ان کی کئی عوامی ریلیاں بھی طے ہیں۔ انتخابات کے پہلے مرحلے سے ایک دن قبل، بی جے پی لیڈر سشیر باجوریا نے کہا تھا کہ ٹی ایم سی سربراہ اسٹیج پر گھبراہٹ کا شکار نظر آتی ہیں، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ اگر کوئی گھبراہٹ تھی بھی تو وہ ختم ہو چکی ہے ۔ ان کے چہرے سے فکر کی لکیریں بھی غائب دکھائی دیں۔ جمعرات کو ایک جارحانہ تقریر میں بنرجی نے کہا تھا کہ "بنگال میں جیت کے بعد میں دہلی پر بھی اثر ڈالوں گی اور تمام سیاسی جماعتوں کو متحد کر کے بی جے پی کو ہٹانے کی کوشش کروں گی۔" ادھر تقریباً 76 کلومیٹر دور بونگا¶ں میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بنرجی حکومت پر بدعنوانی اور ریاست کی معاشی زبوں حالی کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے اس علاقے میں جوٹ ملز اور فیکٹریاں تھیں، لیکن اب زیادہ تر بند ہو چکی ہیں، صرف 'کٹ منی' کی دکان باقی ہے ، اور ٹی ایم سی بنگال کے قابل نہیں۔ مودی نے بونگا¶ں جانے سے پہلے ٹھاکر نگر کا بھی دورہ کیا، جو تقریباً 30 لاکھ افراد پر مشتمل متوا کمیونٹی کا مرکز ہے ۔ یہ برادری، جو 19ویں صدی کے مصلح ہری چند ٹھاکر کی تعلیمات پر عمل کرتی ہے ، ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے پر ناراض ہے ۔ مقامی سماجی کارکن دلیپ متوا نے کہا کہ ہر گا¶ں میں سینکڑوں نام حذف کیے گئے ہیں اور نوجوان لڑکیاں پوچھ رہی ہیں کہ کیا وہ کبھی ووٹ دے سکیں گی۔ بھوانی پور میں، جہاں بنرجی کی پارٹی 2011 سے مضبوط ہے ، وہ اب بھی مستحکم نظر آتی ہیں، حالانکہ ان کے سابق ساتھی اور موجودہ بی جے پی لیڈر سوویندو ادھیکار بھرپور مہم چلا رہے ہیں۔ یہ حلقہ مختلف برادریوں کا مجموعہ ہے ، جسے اکثر 'منی انڈیا' کہا جاتا ہے ۔ یہاں بنگالیوں کے ساتھ گجراتی، سکھ، تمل اور بہار و اتر پردیش سے آئے ہندی بولنے والے افراد بھی رہتے ہیں۔ مسلمانوں کی آبادی تقریباً ایک چوتھائی ہے ، لیکن ووٹر لسٹ میں کٹوتیوں سے وہ بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، گزشتہ انتخابات میں بنرجی کی 58 ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری انہیں مضبوط پوزیشن میں رکھتی ہے ۔ سیاسی تجزیہ کار سابیاساچی بسو رائے چودھری کے مطابق، بنرجی نے دیگر علاقوں میں مہم چلا کر اور بھوانی پور کو آخری مرحلے کے لیے چھوڑ کر ایک کامیاب حکمت عملی اپنائی ہے ۔ انتخابی مہم اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ، جہاں ایک طرف علاقائی قیادت اپنی جڑوں پر انحصار کر رہی ہے ، تو دوسری طرف قومی سطح کی جماعت بڑی تبدیلی کا دعویٰ کر رہی ہے ۔ بنگال کی سڑکوں پر موجود جوش و خروش یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ مقابلہ صرف حکمرانی یا ترقی کا نہیں بلکہ شناخت، شہریت اور نمائندگی کا بھی ہے ۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کون اپنی انتخابی مہم کو ووٹوں میں تبدیل کر پاتا ہے ، جب بدھ کے روز بنگال کے ووٹر ایک بار پھر پولنگ بوتھ کا رخ کریں گے ۔
Source: UNI NEWS
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی