Kolkata

آنند پور 'موت کی بستی' میں 'واو مومو انتظامیہ کٹہرے میں۔

آنند پور 'موت کی بستی' میں 'واو مومو انتظامیہ کٹہرے میں۔

نام میں جتنا چمک دھمک، کام میں اتنی ہی مجرمانہ غفلت! نامور فوڈ کمپنی 'واو مومو' کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ بائی پاس سے متصل آنند پور کے دور افتادہ علاقے نذیر آباد کی دلدلی زمین پر فائر بریگیڈ کی اجازت کے بغیر ایک فیکٹری کھڑی کر دی گئی تھی۔ انتظامیہ کی نظروں سے بچ کر کاروبار کو تیزی سے پھیلانے کی ہوس نے آخرکار آٹھ انسانی جانیں نگل لیں، فیکٹری کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا اور انتظامیہ کی سنگدلی کو بے نقاب کر دیا۔ واقعے کے ڈیڑھ دن بعد جب فیکٹری کا سپروائزر جائے وقوعہ پر پہنچا تو میڈیا کے سوالوں کے جواب میں اس نے دعویٰ کیا کہ "یہاں کچھ بھی غیر قانونی نہیں ہو رہا تھا۔" لیکن جب اس سے پوچھا گیا کہ فائر بریگیڈ کے ڈی جی نے خود تصدیق کی ہے کہ فیکٹری بغیر اجازت چل رہی تھی، تو سپروائزر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ بھاری منافع کی خاطر جن 8 جانوں کی قربانی دی گئی، ان کے اہل خانہ کو جواب کون دے گا؟ آنند پور آگ کا واقعہ: کیا ہوا تھا؟ اتوار کی رات دیر گئے نذیر آباد میں واقع 'واو مومو' کی فیکٹری میں مزدوروں نے سوتے میں آگ کی تپش محسوس کی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ کے شعلوں نے انہیں گھیر لیا۔ فرار ہونے کا کوئی راستہ نہیں تھا کیونکہ فیکٹری کا پہلا دروازہ ہی نہیں کھل سکا۔ بند فیکٹری میں دم گھٹنے سے آٹھ افراد ہلاک ہو گئے، اور خدشہ ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھے گی کیونکہ 15 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ فائر بریگیڈ کے پہنچنے تک آگ نے فیکٹری اور ساتھ والے گودام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ ہر طرف جلنے کے بعد صرف سیاہ راکھ اور ملبہ نظر آ رہا ہے۔ فیکٹری کے اندر کی صورتحال منگل کی صبح نذیر آباد میں معلوم ہوا کہ اس فیکٹری میں تین باورچی خانے (Kitchens) تھے۔ پہلے میں صرف پیکجنگ ہوتی تھی، جبکہ دوسرے اور تیسرے میں کھانا تیار ہوتا تھا۔ اتوار کی رات جب تیسرے باورچی خانے سے آگ پھیلی تو سب سو رہے تھے۔ مزدوروں نے پہلے باورچی خانے سے گزر کر مرکزی دروازے سے نکلنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ ان کی زندگی بچانے کی التجا بے سود ثابت ہوئی۔ انتظامیہ کے پاس اب بھی لاپتہ افراد کی صحیح تعداد موجود نہیں ہے۔ ملک کی بڑی فوڈ کمپنیوں میں شمار ہونے والی 'واو مومو' کا کاروبار تو دن بدن چمک رہا ہے، لیکن نذیر آباد کی راکھ نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا یہ سب غیر قانونی طریقوں سے حاصل کیا گیا؟ غریب مزدوروں کے خون پسینے سے تیار ہونے والے لذیذ 'مومو' پورے ملک میں مہنگے داموں بکتے ہیں، لیکن ان مزدوروں کی زندگی 'ہیرک راجا کے دیش' (ظلم کی نگری) کے کان کنوں جیسی ہے۔ میدنی پور جیسے علاقوں سے صرف دو وقت کی روٹی کی تلاش میں آنے والے یہ مزدور لذیذ کھانے تو بناتے تھے لیکن خود کبھی ان کا ذائقہ نہ چکھ سکے، اور آخرکار یہی بھوک انہیں موت کی دہلیز تک لے آئی۔

Source: PC- sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments