کولکاتا، یکم جنوری :ہندستانی الیکشن کمیشن نے خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے دوران اُن ووٹروں کو خارج ہونے سے بچانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے جو سن 2002 کے پرانے دستاویزات پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ اس سلسلے میں جنسی کارکنوں اور دیگر حاشیے پر موجود طبقات کو شامل کرنے کے لیے نئے رہنما اصول جاری کیے گئے ہیں۔ چیف الیکشن آفیسر (سی ای او) کے دفتر نے 31 دسمبر کے اپنے حکم نامے میں مغربی بنگال کے تمام ضلع الیکشن افسران (ڈی ای او) کو ہدایت دی ہے کہ ایس آئی آر 2026 کے تحت سماعت کے عمل کے دوران خصوصی اقدامات اختیار کیے جائیں، جن میں جنسی کارکن، خصوصی طور پر کمزور قبائلی گروپ، یتیم خانوں میں رہنے والے افراد اور اسی طرح کے دیگر لوگ شامل ہیں۔یہ ہدایت 30 دسمبر کو سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر گیانیش بھارتی کی صدارت میں منعقدہ ویڈیو کانفرنس کے بعد جاری کی گئی، جس میں کمیشن کے اس مقصد کو دہرایا گیا کہ "کوئی بھی اہل شہری محروم نہ رہے اور کوئی بھی نااہل فرد انتخابی عمل میں شامل نہ ہو۔" اس عمل کے تحت ڈی ای او کو ریڈ لائٹ ایریاز، اولڈ ایج ہومز، بستیوں اور اداروں جیسے مقامات پر ذاتی دورے اور عوامی پوچھ گچھ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ، جہاں اہل ووٹر 2002 کے انتخابی عمل سے متعلق دستاویزی ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہوں۔ ایسے معاملات میں جہاں اہل درخواست گزار درست، عملی یا ناگزیر وجوہات کی بنا پر 2002 کے انتخابی عمل (آخری ایس آئی آر) سے متعلق دستاویزات فراہم نہ کر سکیں، ڈی ای او متعلقہ علاقے ، گا¶ں، بستی یا ادارے کا ذاتی طور پر دورہ کریں گے ۔ افسران کے مطابق ڈی ای او عوامی سماعت یا پوچھ گچھ کریں گے ، بیانات اور دیگر متعلقہ شواہد ریکارڈ کریں گے اور ویڈیو گرافی کے ساتھ باضابطہ کارروائی تیار کریں گے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس عمل کے دوران شناخت کیے گئے اہل افراد کی ایک تصدیق شدہ فہرست بھی مرتب کی جائے گی۔ متعلقہ علاقے یا پولنگ اسٹیشن کے بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) سے بھی سماعت کے دوران مشورہ لیا جائے گا اور ان کی آرا، اعتراضات یا توثیق، جیسا بھی معاملہ ہو، باضابطہ طور پر درج کی جائیں گی۔ اس تمام عمل کی بنیاد پر اہل درخواست گزاروں کی ایک جامع اور تصدیق شدہ فہرست تیار کی جائے گی اور اسے الیکشن رجسٹریشن آفیسر (ای آر او) اور اسسٹنٹ الیکشن رجسٹریشن آفیسرز کو بھیجا جائے گا، جو قانون کے مطابق متعلقہ فارموں کے فیصلے اور نمٹارے کے وقت اس کارروائی کو مناسب ثبوت کے طور پر اہمیت دیں گے ۔ واضح رہے کہ کولکاتا کے تین وارڈز میں، جن میں ایشیا کا سب سے بڑا جنسی کارکنوں کا مرکز سوناگاچھی بھی شامل ہے ، سی ای او کے دفتر نے خصوصی امدادی کیمپ قائم کیے تھے ۔ وہاں یہ شکایات سامنے آئی تھیں کہ متعدد مکین ایس آئی آر کے ضوابط کے تحت درکار دو دہائی پرانے دستاویزات تلاش نہیں کر پا رہے تھے ۔
Source: uni news
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی