Kolkata

اگر کوئی شہری اکیلا بائیک پر نکلنا چاہتا ہے تو اسے روکا نہیں جا سکتا: ہائی کورٹ

اگر کوئی شہری اکیلا بائیک پر نکلنا چاہتا ہے تو اسے روکا نہیں جا سکتا: ہائی کورٹ

کلکتہ ہائی کورٹ کے ڈویڑن بنچ نے بائیک پر پابندی کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو سخت جھڑک دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’گروپ رائڈنگ‘ (ٹولی بنا کر چلنا) آج ہی سے بند ہوگی، لیکن شہریوں کی انفرادی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔جسٹس شمپا سرکار کے ڈویڑن بنچ نے سنگل بنچ کے فیصلے میں جزوی ترمیم کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی سخت پابندیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا:"ہم کسی کی ذاتی آزادی میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ اگر کوئی شہری اکیلا بائیک پر نکلنا چاہتا ہے تو اسے روکا نہیں جا سکتا۔" عدالت نے الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ:کیا پڑوسی ریاستوں بہار اور آسام میں انتخابات کے دوران بائیک پر ایسی پابندیاں لگائی گئی تھیں؟ کمیشن ایسی کوئی مثال پیش نہیں کر سکا، جس پر عدالت نے کہا کہ اگر وہاں ایسا نہیں ہوا تو بنگال میں کیوں؟عدالت نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر بائیک پر پابندی ہے تو پھر گاڑیوں کے لیے ایسے قوانین کیوں نہیں بنائے گئے؟ عدالت نے سیاسی تصادم اور بدامنی کو روکنے کے لیے بائیک ریلیوں اور ایک ساتھ کئی بائیک سواروں کے چلنے پر آج ہی سے پابندی عائد کر دی ہے۔ یعنی سیاسی مقصد کے لیے گروہ کی شکل میں نکلنا ممنوع ہوگا، لیکن عام شہری اپنی ضرورت کے لیے بائیک استعمال کر سکیں گے۔الیکشن کمیشن نے شام 6 بجے سے صبح 6 بجے تک بائیک چلانے پر مکمل پابندی (سوائے ہنگامی حالات کے) لگانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ جسٹس کرشنا راو نے اس نوٹیفکیشن کو مسترد کر دیا تھا اور صرف ووٹنگ سے 12 گھنٹے قبل بائیک پر پیچھے سواری بٹھانے پر پابندی لگائی تھی۔ کمیشن نے سنگل بنچ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس پر ڈویڑن بن? نے اب یہ متوازن فیصلہ سنایا ہے کہ سیاسی گروپ رائڈنگ بند رہے گی مگر انفرادی آزادی برقرار رہے گی۔

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments