Kolkata

’اب کوئی بھی ترنمول کو نہیں بچا سکے گا!‘ مودی

’اب کوئی بھی ترنمول کو نہیں بچا سکے گا!‘ مودی

’بنگال کی ماں بے سہارا ہے، مٹی لوٹ لی گئی ہے، اور لوگ یہاں سے جا رہے ہیں، اب کوئی بھی ترنمول کو نہیں بچا سکے گا!‘ مودی نے تبدیلی کی پکار لگا دی کولکاتا14مارچ :بریگیڈ میں ایک طویل خطاب کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اس بار مغربی بنگال میں حکومت کی تبدیلی کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ ان کے الفاظ میں، ”کچھ لوگ ڈرانے کی کوشش کریں گے، کچھ کہیں گے کہ تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ لیکن یاد رکھیں، جب لوگ فیصلہ کر لیتے ہیں تو انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ بنگال کے عوام جب بھی فیصلہ کرتے ہیں، تاریخ بدل جاتی ہے۔ آج بریگیڈ کا یہ منظر دیکھ کر مجھے وہی اعتماد مل رہا ہے۔“ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا، ”اس بار کا ووٹ صرف حکومت بدلنے کے لیے نہیں بلکہ بنگال کی روح کو بچانے کے لیے ہے۔ یہ نظام بدلنے کا الیکشن ہے، کٹ منی اور خوف سے آزادی کا الیکشن ہے۔ آنے والی تبدیلی کے لیے سب کو پیشگی مبارکباد۔ مغربی بنگال کے عوام کی جیت ہو۔“ ”بنگال کو حکومت نے غیر محفوظ بنا دیا ہے“ ”بنگال کو حکومت نے غیر محفوظ کر دیا ہے۔ یہاں کھلے عام دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ ایک خاص طبقہ آپ کو ختم کر دے گا۔ آئینی کرسی پر بیٹھ کر ایسی باتیں آپ کے منہ پر زیب نہیں دیتیں۔ دھمکانا ہی ترنمول کی سیاست ہے۔ بنگال میں خوف کا ماحول بنا کر رکھا گیا ہے، جسے دنیا کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ جو ترنمول کو ووٹ نہیں دیتا وہ بنگالی ہی نہیں ہے! میں ترنمول کو یاد دلا رہا ہوں کہ ان کی غنڈہ گردی کے دن اب ختم ہونے والے ہیں۔ ترنمول حکومت کی روانگی کا الٹی گنتی (Countdown) شروع ہو چکا ہے۔ بی جے پی حکومت بننے کے بعد ایک طرف سب کی ترقی ہوگی، تو دوسری طرف ہر چیز کا حساب لیا جائے گا۔ ترنمول کے غنڈے جو آپ کو ڈراتے ہیں، ان کے برے دن آنے والے ہیں۔ قانون کی حکمرانی ہوگی۔ مجرموں کی ایک ہی جگہ ہوگی، جیل... جیل۔“ ”بائیں بازو کو ہٹا کر ترنمول سے بہت امیدیں تھیں“ ”یہاں کے لوگوں نے بائیں بازو (لیفٹ) کو ہٹا کر بڑی امیدوں کے ساتھ ترنمول کو لایا تھا۔ لیکن انہوں نے غنڈوں اور مافیاو¿ں کو اپنی پارٹی میں شامل کر لیا۔ انہوں نے مجرموں کو کھلا چھوڑ رکھا ہے۔ کالجوں میں بھی غلط کام ہو رہے ہیں۔ ترنمول کے دفاتر میں بھی جنسی ہراسانی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ ترنمول کا کوئی نہ کوئی شخص کسی نہ کسی جرم میں ملوث ہوتا ہے۔ یہاں مجرموں کو بچانے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔ سندیش خالی کی وہ تصویر اور آر جی کر کا واقعہ لوگ بھولے نہیں ہیں۔ سب نے دیکھا ہے کہ ترنمول کس طرح کھلے عام مجرموں کے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔ لڑکیوں کو کہنا پڑتا ہے کہ شام ڈھلنے سے پہلے گھر واپس آ جاو¿۔ بی جے پی اقتدار میں آئی تو یہ صورتحال بدل جائے گی۔ یہی مودی کی گارنٹی ہے۔ اب ترنمول کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔“ نئے بنگال کی تعمیر کی پکار دیتے ہوئے مودی نے ترنمول کے ’ماں-ماٹی-مانوش‘ کے نعرے پر طنز کرتے ہوئے کہا، ”بنگال کی ماں بے سہارا ہے، مٹی لوٹ لی گئی ہے، اور لوگ یہاں سے جا رہے ہیں!“ ”صدرِ جمہوریہ اور قبائلیوں کی توہین“ ”انہوں نے نہ صرف صدر کی توہین کی بلکہ کروڑوں قبائلیوں اور خواتین کی بھی توہین کی ہے۔ انہوں نے ملک کے اعلیٰ ترین عہدے کے وقار کو کم کیا ہے۔ انہوں نے آئین اور بابا صاحب امبیڈکر کی توہین کی ہے۔ اس کی سخت سزا اس ظالم حکومت کو ملے گی۔ وہ ہر روز آئینی نظام پر حملہ کرنے کا راستہ ڈھونڈتے ہیں۔ جب بھی منصفانہ انتخابی عمل کی بات ہوتی ہے تو حملہ کیا جاتا ہے۔ وہ ادارہ جو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرواتا ہے، اس کی ساکھ پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ یہی بات ملک کی فوج کے بارے میں بھی کہی جاتی ہے۔ بالاکوٹ کے وقت بھی انہوں نے فضائیہ سے ثبوت مانگے تھے۔“ ”بنگال کی حالت اب چھپائی نہیں جا رہی“ ”بنگال کے حالات اب چھپائے نہیں جا سکتے۔ چند دن پہلے چندر کونا میں ایک آلو کے کسان نے خودکشی کر لی ہے۔ ترنمول کی کٹ منی، کرپشن اور خراب سیاست کی وجہ سے کسانوں، نچلے طبقے اور متوسط طبقے کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ ماوں اور بہنوں کی حفاظت کو یقینی نہیں بنایا جا رہا۔ جیسے ہی ترنمول کی حکومت جائے گی، غریبوں کے لیے پکے مکانات کی تعمیر شروع ہو جائے گی اور ہر گھر تک صاف پانی پہنچے گا۔“

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments