Kolkata

آنکھوں پر پٹی باندھ کر مت رہو‘، سوشل میڈیا پر فرہادحکیم کی بیٹی کا ممتا کو ’دھرتراشٹر‘ سے تشبیہ دے کر طنز

آنکھوں پر پٹی باندھ کر مت رہو‘، سوشل میڈیا پر فرہادحکیم کی بیٹی کا ممتا کو ’دھرتراشٹر‘ سے تشبیہ دے کر طنز

آنکھوں پر پٹی باندھ کر مت رہو‘، سوشل میڈیا پر فرہادحکیم کی بیٹی کا ممتا کو ’دھرتراشٹر‘ سے تشبیہ دے کر طنز اقتدار ہاتھ سے جاتے ہی ترنمول کانگریس کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ بنگال میں ترنمول کی عبرت ناک شکست کے بعد پارٹی لیڈروں نے ابھیشیک بنرجی کے ’کارپوریٹ کلچر‘ کے خلاف آواز اٹھانا شروع کر دی ہے۔ جب یہ غصہ عوامی سطح پر آیا تو ترنمول کانگریس نے 5 لیڈروں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے۔ اب فرہاد (بوبی) حکیم کی صاحبزادی پریدرشنی حکیم کی ایک اشاروں کنایوں پر مبنی سوشل میڈیا پوسٹ نے پارٹی کے لیے مزید مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ ”مہابھارت کی عظیم جنگ کی سب سے بڑی وجہ د±ریودھن کے لیے دھرتراشٹر کی اندھی محبت اور جانبداری تھی۔ اسی طرح عوامی قصوں کی بنیاد پر بھگوان رام چندر کے اقدامات سے ہی رام راجیہ کے زوال کا آغاز ہوا، جس کے نتیجے میں اگنی پریکشا کے باوجود ماتا سیتا کو جلاوطن کر دیا گیا۔ لہٰذا، کسی کے تئیں غیر اصولی وفاداری میں اندھے نہ بنیں۔“پریدرشنی نے مزید لکھا، ”آنکھوں پر پٹی باندھ کر مت رہو۔ کانوں سے دیکھنا بند کرو۔“سیاسی حلقوں کے مطابق پریدرشنی حکیم نے ترنمول کی تباہی کی وجہ ابھیشیک بنرجی کے تئیں ممتا بنرجی کی ’اقربا پروری‘ کو قرار دیا ہے۔ خاندانی سیاست پر حملہ کرنے کے لیے انہوں نے رامائن اور مہابھارت کے حوالوں کا سہارا لیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ فرہاد حکیم کبھی بھی ابھیشیک بنرجی کے قریبی حلقے کا حصہ نہیں رہے۔ انہوں نے پارٹی میں عمر کی حد مقرر کرنے کے ابھیشیک کے فیصلے پر بھی سوال اٹھائے تھے۔ 2026 کے انتخابات میں اگرچہ عوام نے ترنمول کو اقتدار سے باہر کر دیا ہے، لیکن کولکتہ کے میئر فرہاد حکیم کولکتہ پورٹ کی نشست سے بی جے پی کے راکیش سنگھ کو ہرا کر اپنی جیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ اب ان کی بیٹی کی اس پوسٹ نے شکست خوردہ ترنمول کے اندرونی خلفشار کی آگ پر تیل کا کام کیا ہے۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments