کلکتہ: 12جون:جنوبی کلکتہ میں علی پور کی ایک سرکاری عمارت میں آتشزدگی کے واقعہ کا نیا اور سنسنی خیز پہلو سامنے آیا ہے۔ اب انکشاف ہوا ہے کہ اس آگ میں تقریباً 4000 ای وی ایم تباہ ہو گئیں۔ اس سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ان مشینوں کا استعمال 10 حلقوں میں کیا گیا تھا۔ای وی ایم کے علاوہ وی وی پیٹ کی مشینیں اور سلپ بھی خاکستر ہوجانے کی خبر ہے۔ایڈیشنل سی ای او نے موقع واردات کا دورہ کیا ہے اور وہ مرکزی الیکشن کمیشن کو رپورٹ پیش کریں گے۔ اس واقعہ کے بعد ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا ہے۔ کانگریس اور اے اے پی نے بھی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ مغربی بنگال پولس نے تحقیقات کے لئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی ہے۔اس عمارت میں بشمول جنوبی 24 پرگنہ ضلع پریشد کئی سرکاری دفاتر ہیں۔ آگ کی شدت اتنی تھی کہ مکمل طور پر قابو پانے میں تقریباً 24 گھنٹے لگے۔مغربی بنگال حکومت کے وزیر کوشک چودھری نے کہا کہ آگ لگنا حادثہ نہیں لگتا ہے ۔ ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ ترنمول کانگرےس نے ایکس پر آتشزدگی کا ایک ویڈیو شیئر کیا اور لکھا کہ، "الیکشن کمیشن ہمیشہ سوالات سے گریز نہیں کر سکتا۔ ابتدائی طور پر ای وی ایم اور سی سی ٹی وی فوٹیج کو محفوظ کرنے کےلئے عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔ اب یہ کیسے ہوا؟ کیا یہ محض ایک حادثہ تھا یا اہم شواہد کو تباہ کرنے کی دانستہ کوشش تھی؟" ٹی ایم سی نے دعویٰ کیا کہ آگ میں تباہ ہونے والی مشینیں قصبہ ، جادو پور، بہالا ایسٹ، بہالہ ویسٹ، مٹےا برج ، ست گچھیا اور ڈائمنڈ ہاربر سب ڈویژنوں کی کئی اسمبلی سیٹوں سے متعلق تھیں۔ کانگریس نے بھی کہا کہ "حکومت اور الیکشن کمیشن کو واضح کرنا چاہئے کہ آگ کیسے لگی اور یہ نویں اور دسویں منزل تک کیسے پہنچی۔" عام آدمی پارٹی( آپ) کا کہنا ہے کہ ، "کیا ہوا کہ ایک سرکاری عمارت میں اتنی بڑی آگ لگ گئی؟ آگ کیسے لگی اور ہزاروں ای وی ایم اس آگ کی لپیٹ میں کیسے آگئیں؟ بی جے پی کو جواب دینا چاہئے۔" دوسری جانب مغربی بنگال کے فائر اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر مملکت کوشک چودھری نے بتایا کہ آگ پہلی اور تیسری منزل پر دیکھی گئی۔ پھر یہ ساتویں، آٹھویں، نویں اور دسویں منزل تک پھیل گئی۔ انہوں نے پوچھا کہ آگ چوتھی، پانچویں اور چھٹی منزل تک کیسے پہنچی اور کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا۔ واقعے کے پیچھے کوئی سازش تو نہیں اس بات کی تحقیقات جاری ہیں۔ مرکزی وزیر سکانت مجمدار نے کہا کہ سازش کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ بی جے پی لیڈر راکیش سنگھ نے اسے منصوبہ بند واقعہ قرار دیا تاہم، ان دعوو¿ں کی حمایت کے لئے کوئی ثبوت نہیں ہے۔ جنوبی 24 پرگنہ انتظامیہ کی شکایت پر علی پور پولس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولس آگ لگنے کی وجہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آگ شارٹ سرکٹ سے لگی یا کوئی اور وجہ۔ فرانزک ٹیم جائے وقوع سے نمونے اکٹھا کررہی ہے۔عمارت کو سیل کر دیا گیا ہے اور لوگوں کی رسائی محدود کر دی گئی ہے کیونکہ تفتیش کار اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آگ بالائی منزلوں تک کیسے پھیلی۔ پولس نے عمارت کے ارد گرد نگرانی بھی بڑھا دی ہے۔ واقعہ کے دو دن بعد بھی آگ لگنے کا اسرار برقرار ہے۔فورنسک سائنس کے ماہرین بھی اب تک کسی نتےجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔
Source: social media
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی