مغربی بنگال میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جانچ اور ترمیم کے حوالے سے سپریم کورٹ نے ایک تاریخی اور غیر معمولی فیصلہ سنایا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ریاست میں پیدا ہونے والی "استثنائی صورتحال" کے پیشِ نظر تحقیقاتی عمل کا کنٹرول جوڈیشل افسران کے سپرد کر دیا ہے۔ریاست میں ووٹر لسٹوں کی درستی کے عمل میں جاری مبینہ دھاندلی اور تضادات پر جمعہ کو سپریم کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ اب کلکتہ ہائی کورٹ کے مقرر کردہ عدالتی افسران ہی تمام ڈیٹا اور معلومات کے تضادات کا تصفیہ کریں گے۔چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جے مالیہ باغچی اور جسٹس این وی انجریا کے بنچ نے کہا کہ ریاست میں ایک "غیر معمولی صورتحال" پیدا ہو گئی ہے جہاں حکومت اور کمیشن کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ عدالت نے دوٹوک کہا کہ ریاست نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جہاں عدالتی مداخلت ناگزیر ہو گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے کلکتہ ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ ہر ضلع میں موجودہ ججوں اور ریٹائرڈ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ججوں کو اس کام کے لیے مقرر کرے۔ الیکشن کمیشن اور ریاستی افسران صرف ان کی مدد کریں گے، اور حتمی فیصلہ ان جوڈیشل افسران کا ہی مانا جائے گا۔عدالت نے کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سوجوئے پال سے درخواست کی ہے کہ وہ ہفتہ کے روز الیکشن کمیشن، چیف سکریٹری، ڈی جی پی اور ایڈووکیٹ جنرل کے ساتھ میٹنگ کریں تاکہ عمل کو منظم کیا جا سکے۔ 28 فروری تک حتمی ووٹر لسٹ ہر صورت شائع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن اور حکومت کے درمیان اصل تنازع "گروپ بی" افسران کی فراہمی پر سامنے آیا:کمیشن کا الزام ہے کہ ریاست نے بار بار مانگنے کے باوجود مطلوبہ افسران نہیں دیے بلکہ کلرک لیول (گروپ سی) کے ملازمین دے دیے۔سپریم کورٹ نے حیرت کا اظہار کیا کہ کلرک لیول کا عملہ SIR جیسا حساس کام کیسے کر سکتا ہے؟ عدالت نے کہا کہ اگر ریاست تعاون نہیں کرتی تو کمیشن اپنے طور پر عملہ لا سکتا ہے۔سپریم کورٹ نے ریاست میں SIR کے عمل کے دوران ہونے والے تشدد کے واقعات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے سے "اسٹیٹس رپورٹ" طلب کر لی ہے۔
Source: PC- anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا