کانگریس امیدوار محمد متقین عالم کی نامزدگی تقریباً منسوخ ہونے کے دہانے پر تھی، لیکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت کی مداخلت اور ٹربیونل کے فوری فیصلے نے انہیں بڑی راحت دے دی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ٹربیونل کو دوپہر 12 بجے تک متقین کی درخواست کا تصفیہ کرنے کی ہدایت دی تھی، جس کے بعد ٹربیونل نے ان کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ سابق ایم ایل اے متقین عالم نے اپنا پاسپورٹ سمیت تمام ضروری دستاویزات جمع کرائے تھے، لیکن "منطقی تضاد" کا حوالہ دے کر ان کا نام روک دیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے افسر نے انہیں نوٹس جاری کیا تھا جس میں دو اہم اعتراضات اٹھائے گئے تھے ۔ان کے والد کے نام میں دستاویزات کے مطابق فرق ہے۔متقین اور ان کے والد کی عمر کے درمیان 50 سال کا فرق ہے۔ٹربیونل نے تمام دستاویزات کی باریک بینی سے جانچ کی اور درج ذیل نکات کی بنیاد پر اعتراضات کو مسترد کر دیا۔ ٹربیونل نے دیکھا کہ متقین کے والد کا نام مختلف جگہوں پر 'علی ولی'، 'ولی محمد' اور 'علی محمد' درج ہے، لیکن تمام دستاویزات اور ووٹر کارڈز پر ووٹر آئی ڈی نمبر ایک ہی ہے۔ اس لیے اسے کوئی بڑی بے ضابطگی یا دھوکہ دہی نہیں مانا جا سکتا۔ والد اور بیٹے کی عمر میں 50 سال کے فرق پر ٹربیونل نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا،"ووٹر کے والدین (کے نسب) پر سوال اٹھانے یا اس کا فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ عمر کا فرق کبھی بھی ووٹر لسٹ سے نام خارج کرنے کی وجہ نہیں بن سکتا۔متقین عالم کا سیاسی ریکارڈٹربیونل نے اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھا کہ متقین عالم کوئی نئے ووٹر نہیں ہیں۔ان کے والد کا نام 1971 سے مالدہ کے انگریز بازار کی ووٹر لسٹ میں شامل ہے۔متقین خود 2002 کی ایس آئی آر لسٹ میں شامل تھے۔وہ جودو پور پنچایت سمیتی کے رکن رہ چکے ہیں اور 2016 میں مانک چک اسمبلی حلقہ سے ایم ایل اے بھی منتخب ہوئے تھے۔ان تمام ثبوتوں کی روشنی میں ٹربیونل نے چند ہی گھنٹوں میں معاملے کو حل کرتے ہوئے متقین عالم کا نام فوری طور پر ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کا حکم دے دیا، جس سے ان کے الیکشن لڑنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ