مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے کے خوف اور تناو نے ایک اور شہری کی جان لے لی۔ جنوبی 24 پرگنہ کے مگراہٹ علاقے میں ووٹر لسٹ میں نام نہ ملنے پر صدمے سے ایک شخص کی موت کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔محمود غازی (عمر 46 سال)، ساکن مگراہٹ مغربی اسمبلی حلقہ۔ محمود غازی اور ان کے بیٹے کا نام مگراہٹ کے بوتھ نمبر 158 کی ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا گیا تھا۔محمود غازی نے تمام ضروری دستاویزات جمع کرائے تھے اور سماعت میں بھی شرکت کی تھی۔ انہیں امید تھی کہ سپلیمنٹری لسٹ میں ان کا نام آ جائے گا، لیکن جب آخری فہرست میں بھی نام نہیں ملا تو وہ شدید ذہنی دباو کا شکار ہو گئے۔جمعرات کو اچانک برین اسٹروک ہونے کے بعد انہیں ڈائمنڈ ہاربر میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا، جہاں جمعہ کی صبح انہوں نے دم توڑ دیا۔متوفی کے اہل خانہ اور پڑوسیوں نے اس موت کا ذمہ دار براہِ راست الیکشن کمیشن کو ٹھہرایا ہے۔ ان کا سوال ہے کہ تمام ثبوت فراہم کرنے کے باوجود نام کیوں کاٹا گیا؟ بنگال میں 'ایس آئی آر' کے عمل کے دوران لاکھوں ناموں کے کٹنے سے عوام میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی ریاست کے مختلف حصوں سے ایسی اموات کی خبریں سامنے آ چکی ہیں۔ریاست کی حکمراں جماعت مسلسل الیکشن کمیشن کو نشانہ بنا رہی ہے کہ اس عمل کے ذریعے عام ووٹروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جبکہ کمیشن ان الزامات سے انکار کرتا رہا ہے۔ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے کا یہ خوف بنگال کے دیہی علاقوں میں ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ