Bengal

ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے والوں نے صدر ہند سے رضاکارانہ موت کی اجازت مانگی

ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے والوں نے صدر ہند سے رضاکارانہ موت کی اجازت مانگی

مغربی بنگال کے ضلع آرام باغ میں (اسپیشل انفارمیشن رپورٹ) کے تحت ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے پر ایک انتہائی افسوسناک اور جذباتی واقعہ سامنے آیا ہے۔ ایک سابقہ ہیڈ مسٹریس سمیت 6 مقامی باشندوں نے ڈیٹینشن کیمپ جانے کے خوف سے صدرِ جمہوریہ ہند سے ایوتھینیشیا (رضاکارانہ موت) کی اجازت مانگ لی ہے۔ پیر کے روز آرام باغ میونسپلٹی کے وارڈ نمبر 6 کی رہائشی اور سابقہ ہیڈ مسٹریس طیبہ النسائ بیگم اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ایس ڈی او آفس پہنچیں۔ احتجاج کا طریقہ یہ تھا کہ انہوں نے اپنی شہریت اور ملازمت کے تمام سرکاری دستاویزات اپنے جسم پر چپکا رکھے تھے، تاکہ یہ دکھا سکیں کہ تمام ثبوت ہونے کے باوجود انہیں غیر ملکی سمجھا جا رہا ہے۔ طیبہ النساءبیگم، جو 34 سال تک سرکاری اسکول میں استانی رہیں اور 20 سال تک بطور ہیڈ مسٹریس خدمات انجام دیں، اب پنشن یافتہ ہیں۔ ان کے شوہر آرام باغ گرلز کالج کے پرنسپل رہ چکے ہیں۔ طیبہ النساء کا کہنا ہے:"میں ایک سرکاری ملازم تھی، میرے پاس پاسپورٹ ہے، میں بیرون ملک بھی جا چکی ہوں اور برسوں سے ووٹ ڈال رہی ہوں۔""اگر اتنے ثبوتوں کے بعد بھی میرا نام ووٹر لسٹ میں نہیں ہے، تو اور کیا چاہیے؟""ڈیٹینشن کیمپ کی ذلت سہنے سے بہتر ہے کہ ہم مر جائیں۔ اسی لیے ہم صدرِ جمہوریہ سے موت کی اجازت مانگ رہے ہیں۔"رپورٹ کے مطابق، آرام باغ کے اس ایک ہی وارڈ سے 206 افراد کے نام SIR کی وجہ سے خارج کر دیے گئے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ آزاد ملک میں پیدا ہو کر بھی اب خود کو غلام محسوس کر رہے ہیں۔

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments