مدنی پور 13نومبر:تہتر سالہ مرتیونجے سرکار زندگی کی جنگ ہار گئے۔ 2002 کی ترمیم شدہ ووٹر لسٹ میں نام نہ ہونے کی وجہ سے اس عمر رسیدہ شخص کو ایس آئی آر کی سماعت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن اس سماعت کی پریشانی ہی ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔ پیر کی صبح تامل لپتو گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال میں علاج کے دوران انہوں نے آخری سانس لی۔ بیٹے منٹو سرکار کا بتانا ہے کہ ان کے والد کی موت ایس آئی آر کے خوف کی وجہ سے ہوئی ہے۔ 2002 کی ووٹر لسٹ میں نام نہ ہونے کی وجہ سے وہ کافی فکر مند ہو گئے تھے۔ گزشتہ 4 جنوری کو انہیں شاہد ماتنگینی بی ڈی او آفس میں سماعت کے لیے بلایا گیا تھا، جہاں وہ حاضر ہوئے تھے۔ واقعے کا آغاز 4 جنوری کو ہوا جب سماعت کے دوران مرتیونجے بابو نے اپنی شہریت کے ثبوت کے طور پر 1971 کی ایک دستاویز پیش کی۔ لیکن اس دستاویز کی قبولیت پر سوال اٹھتے ہی ان کے ذہن میں اندیشوں کے بادل چھا گئے۔ وہ اسی خوف اور تناو کو برداشت نہیں کر سکے۔
Source: PC- tv9bangla
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ
دکان کے سامنے سے پاکستانی نوٹ برآمد ہونے سے سنسنی
آئی پی ایل پر 40فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا