سپریم کورٹ نے ووٹوں کی گنتی کے عمل میں مرکزی حکومت کے ملازمین کی تعیناتی کے خلاف ترنمول کانگریس کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی جاری کردہ ہدایات کے مطابق کام کرنے کے لیے آزاد ہے اور اس معاملے میں عدالت کی جانب سے کسی اضافی حکم کی ضرورت نہیں ہے۔ جسٹس نرسمہا نے ریمارکس دیے کہ ریاستی اور مرکزی حکومت کے ملازمین کو الگ الگ نظر سے دیکھنا غلط ہے، وہ تمام سرکاری ملازمین ہی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اگر کمیشن یہ فیصلہ کرتا ہے کہ گنتی کے عمل میں دونوں ملازمین مرکز کے ہوں گے، تو اس سے کسی اصول کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔جسٹس باغچی نے واضح کیا کہ قواعد کے مطابق کاونٹنگ سپروائزر اور اسسٹنٹ کے عہدوں پر مرکزی یا ریاستی کسی بھی حکومت کے ملازمین کو تعینات کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن ضابطوں کے خلاف نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ 13 اپریل کو جاری کردہ اپنی ہی گائیڈ لائنز کے مطابق کام کرے گا۔ اس بیان کے بعد عدالت نے کسی بھی قسم کی مداخلت سے انکار کر دیا۔ترنمول کے وکیل کپل سبل نے دلیل دی کہ گنتی کے عمل میں ریاستی اور مرکزی ملازمین کا متوازن انتخاب ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کمیشن اپنے ہی سرکلر پر عمل نہیں کر رہا اور ریاستی نمائندوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
Source: PC-anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ