Bengal

آپ ہندوستانی نہیں ہیں‘، یہ کہہ کرہوڑہ کے مسلمانو ں کو پے در پے نوٹس بھیجے جا رہے ہیں

آپ ہندوستانی نہیں ہیں‘، یہ کہہ کرہوڑہ کے مسلمانو ں کو پے در پے نوٹس بھیجے جا رہے ہیں

ہوڑہ 14فروری :کے متعدد رہائشیوں کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹس موصول ہوئے ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ہندوستانی شہری نہیں ہیں۔ ان نوٹسز میں شکایت کنندہ کی صحیح شناخت درج نہیں ہے، جس پر سی پی آئی ایم کے وکیل سبیاساچی چٹرجی اور ترنمول کانگریس کے وسطی ہاوڑہ کے نائب صدر سوشوبھن چٹرجی کے درمیان شدید لفظی جنگ چھڑ گئی ہے۔ ’بھوت ووٹروں‘ کے بعد اب ’بھوت شکایت کنندگان‘ کا معاملہ سامنے آیا ہے! وسطی ہاوڑہ اسمبلی حلقہ کے تقریباً دو ہزار لوگوں کو ایس آئی آر (SIR) سماعت کے مراکز پر حاضر ہونے کے نوٹس موصول ہوئے ہیں۔ نوٹس میں وجہ ’غیر ہندوستانی شہری‘ (Non-Indian Citizen) بتائی گئی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جہاں شکایت کنندہ کے نام اور پتے کی مکمل تفصیلات ہونی چاہیے تھیں، وہاں صرف نام لکھا ہے اور پتے کی جگہ محض ’ویسٹ بنگال‘ درج ہے۔ اس واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ نوٹس ملنے کے بعد تمام لوگ سماعت کے مراکز پر پہنچے جہاں ان کے دستاویزات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس معاملے پر سیاسی تنازع بھی شروع ہو گیا ہے۔ چند روز قبل سی پی آئی ایم کے رہنما اور وکیل سبیاساچی چٹرجی حقائق جاننے کے لیے سماعت کے مرکز پہنچے، جہاں ترنمول رہنما بھی موجود تھے۔ دونوں فریقین میں شدید تکرار ہوئی۔ بعد ازاں سی پی آئی ایم قیادت نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس طرح کے نوٹس حکمراں جماعت کی سازش کا حصہ ہیں۔ سبیاساچی کا کہنا ہے کہ ترنمول لوگوں کو خوفزدہ کر کے پھر ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا ناٹک کر رہی ہے تاکہ بائیں بازو کو بدنام کیا جا سکے۔ انہوں نے اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لے جانے کا بھی اعلان کیا۔ دوسری طرف، ترنمول کانگریس نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ سوشوبھن چٹرجی کا کہنا ہے کہ سی پی آئی ایم اور بی جے پی مل کر لوگوں کو گمراہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ایس آئی آر کے ذریعے ہراساں کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ میں آواز اٹھائی ہے۔ ہوڑہ کے ایک رہائشی علی اصغر نے بتایا کہ انہیں اچانک ’غیر ہندوستانی شہری‘ قرار دیتے ہوئے نوٹس ملا۔ انہوں نے ضلع کے چیف الیکشن آفیسر کو فون کر کے اس کی اطلاع دی اور مطالبہ کیا کہ اس طرح کی حرکتیں کرنے والے مجرموں کو ڈھونڈ کر سزا دی جائے۔ اب علاقے کے مکین اس سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ کیا الیکشن کمیشن ان نامعلوم یا ’بھوت‘ شکایت کنندگان کا پتہ لگا پائے گا؟

Source: PC- tv9bangla

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments