سابقہ محبوبہ پیشے سے پروفیسر ہیں۔ ان کے خلاف مسلسل تشدد، جان لیوا دھمکیوں اور جنسی ہراسانی کے الزام میں ایک نوجوان خاتون نے پولیس کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سابقہ محبوبہ نے ان کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اب تک وہ سماجی اور سیاسی طاقت کے زور پر ان پر دباو ڈال رہے تھے۔ اب اس کا حل چاہتے ہوئے وہ پولیس سپرنٹنڈنٹ کے پاس پہنچی ہیں۔ واقعہ مشرقی بردوان کا ہے۔ جس پروفیسر کے خلاف خاتون نے یہ الزام لگایا ہے، وہ بردوان شہر کے ایک بااثر کونسلر کا بھتیجا ہے۔ شکایت کنندہ نے بتایا کہ کالج میں تعلیم کے دوران اس پروفیسر سے ان کی ملاقات ہوئی۔ کچھ دنوں بعد ان کے درمیان قریبی تعلق قائم ہوا لیکن چند ہی مہینوں میں کچھ رویوں سے وہ حیران رہ گئیں۔ انہوں نے دن بہ دن ذہنی اذیت اور جسمانی زیادتی برداشت کی۔ آخر کار 2 سال پہلے انہوں نے یہ تعلق ختم کر دیا۔ اس کے بعد سے سابقہ محبوبہ نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ خاتون کا الزام ہے کہ پولیس کو تحریری شکایت میں انہوں نے بتایا کہ 2025 کے آغاز سے تشدد کی شدت ’انتہائی حد‘ تک پہنچ گئی۔ سڑکوں پر سابقہ محبوبہ انہیں نازیبا پیشکشیں کرتے تھے۔ جنسی ہراسانی کی بھی کوشش کی۔ گزشتہ سال 23 مئی کو کچھ لوگوں کو لے کر ان کے گھر بھی دھاوا بولا گیا۔ شکایت کنندہ کا دعویٰ ہے کہ سابقہ محبوبہ نے خود کو کونسلر کا بھتیجا اور ترنمول لیڈروں کا قریبی بتاتے ہوئے انہیں علاقے سے نکالنے کی دھمکی دی۔ کسی اور سے شادی کرنے پر بھی نقصان پہنچانے کی دھمکی دی گئی۔
Source: PC-anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ