ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل سے پہلے ہی درگاپور کے کانسہ علاقے میں سرکاری اسکولوں کے یونیفارم کی مبینہ اسمگلنگ کو لے کر شدید ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔ الزام ہے کہ کانسہ بی ڈی او آفس کے قریب واقع ایک کلب سے 'بشو بنگلہ' لوگو والے اسکول یونیفارم کے ڈھیروں تھیلے اسمگل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ بی جے پی کارکنوں نے دیکھا کہ کلب سے کپڑوں کے تھیلے نکال کر ٹوٹو (ای رکشہ) میں لدے جا رہے ہیں۔ جب وہاں موجود سیلف ہیلپ گروپس کی خواتین سے پوچھا گیا کہ یہ کس کے حکم پر کیا جا رہا ہے، تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی۔بی جے پی کارکنوں نے کپڑوں سے لدے ٹوٹو کو روک لیا اور احتجاج شروع کر دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ نئی حکومت بننے سے پہلے ترنمول کانگریس کے ایما پر سرکاری املاک کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اطلاع ملتے ہی کانسہ کے بی ڈی او سوربھ گپتا موقع پر پہنچ گئے۔ بی ڈی او کی موجودگی میں بی جے پی کارکنوں نے ٹوٹو سے یونیفارم اتار کر دوبارہ کلب کے کمرے میں رکھوا دیے۔ بعد ازاں، بی ڈی او کی موجودگی میں ہی اس کمرے کو تالا لگا کر سیل کر دیا گیا۔معلوم ہوا ہے کہ یہ کپڑے سیلف ہیلپ گروپس کی خواتین نے تیار کیے تھے، لیکن انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کی وجہ سے ان کی تقسیم روک دی گئی تھی اور انہیں اسی کلب میں محفوظ رکھا گیا تھا۔بی جے پی کا الزام ہے کہ ریاست میں سیاسی تبدیلی کو دیکھتے ہوئے ترنمول کے لوگ سرکاری دستاویزات اور اشیائ غائب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں کافی دیر تک تناو کی صورتحال برقرار رہی۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ