راجیہ سبھا میں تری نمل مزید کمزور ہو گئی۔ چار دن کے اندر تین ارکان نے رکنیت چھوڑ دی۔ پارٹی بھی چھوڑ دی۔ جمعرات کو پرکاش چک بارائی نے راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفٰی دے دیا۔ استعفٰی دیتے ہوئے کہا، "مکھی منتری کے حکم پر کام کروں گا۔" اس سے قبل سکھیندو شیکھر رائے اور سسمیتا دیو نے رکنیت چھوڑی تھی۔ تینوں نے رکنیت چھوڑنے کے ساتھ ساتھ تری نمل بھی چھوڑ دی۔ راجیہ سبھا میں تری نمل کی بکھراو کی شروعات گزشتہ پیر کو ہوئی تھی۔ اس دن سکھیندو شیکھر نے راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفٰی دیا تھا۔ بدھ کو سسمیتا نے رکنیت چھوڑی۔ تری نمل بھی چھوڑ دی۔ اب سکھیندو، سسمیتا کے دکھائے راستے پر چلتے ہوئے پرکاش چک نے بھی رکنیت اور پارٹی چھوڑ دی۔ پرکاش چک تری نمل کے شیڈول ٹرائب کے اہم چہروں میں سے تھے اور وہ تری نمل کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بینرجی کے ’قریبی‘ سمجھے جاتے تھے۔ 2023 میں تری نمل نے انہیں راجیہ سبھا بھیجا تھا۔ بعد میں 2024 میں لوک سبھا الیکشن میں علی پور دوار سے امیدوار بھی بنایا گیا تھا۔ تاہم وہ ہار گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق، اس بار کے اسمبلی الیکشن میں بھی پرکاش چک کو امیدوار بنانے پر تری نمل کے اندر غور کیا جا رہا تھا۔ لیکن آخر کار ایسا نہیں کیا گیا۔ استعفٰی کے بعد دہلی میں پرکاش چک نے بتایا کہ حال ہی میں ختم ہونے والے انتخابات میں عوام نے جو فیصلہ دیا ہے، اس فیصلے کا احترام کرنے کے لیے ہی انہوں نے راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفٰی دیا ہے۔ پارٹی چھوڑنے کا بھی اعلان کیا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ آئندہ مکھی منتری کے حکم پر ہی کام کریں گے۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ