کسی مٹھائی پر 'گھاس پھول' (ترنمول کا نشان) ہے، کسی پر 'کنول' (بی جے پی کا نشان)، تو کسی پر 'درانتی ہتھوڑا اور ستارہ'۔ انہیں منہ میں ڈالتے ہی چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا سیاسی جماعتوں کے نشانات بھی کھائے جا سکتے ہیں؟ جی ہاں، بالکل درست سنا آپ نے۔ پچھلے سالوں کے انتخابات کی طرح اس بار بھی اسمبلی انتخابات سے عین قبل ہاوڑہ کے شب پور (بیتائی تلا) میں ایک مشہور مٹھائی کی دکان نے مختلف سیاسی جماعتوں کے انتخابی نشانات والی مٹھائیاں تیار کی ہیں۔ انتخابات کے گرم ماحول اور کشیدگی کے درمیان یہ مٹھائیاں بنگالیوں کی روایتی ہم آہنگی اور ثقافت کا پیغام دے رہی ہیں۔ ان مٹھائیوں کو سیاسی کارکن اپنے لیڈروں کو خوش کرنے کے لیے تحفے میں دے رہے ہیں، تو کہیں ایک ہی خاندان میں موجود مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے لوگ انتخابی تلخی کو کم کرنے کے لیے ایک دوسرے کو اپنے اپنے نشان والی مٹھائیاں کھلا رہے ہیں۔ یہ مٹھائیاں محض خوش اخلاقی برقرار رکھنے یا تشہیر کے ایک نئے طریقے کے طور پر ابھری ہیں۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ