سپریم کورٹ میں ایس آئی آر کیس کی سماعت کے دوران، بنگال کے ان ووٹروں کے مستقبل پر بحث ہوئی جن کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیے گئے تھے۔ سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ کیا وہ ووٹر جو ٹربیونل سے کلیئرنس حاصل کر لیں گے، وہ 2026 کے اسمبلی انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں گے؟ چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں بنچ نے فی الحال اس پر کوئی حتمی یقین دہانی نہیں کرائی۔ عدالت نے کہا کہ ٹربیونل سے پاس ہونے والے ووٹروں کے ووٹ ڈالنے کے حق پر فیصلہ 13 اپریل کو ہونے والی اگلی سماعت میں کیا جائے گا۔ کمیشن کے وکیل ڈی ایس نائیڈو نے عدالت کو بتایا کہ ووٹر لسٹ کو 9 اپریل کو 'فریز' (حتمی) کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لسٹ فریز ہونے کے بعد اس میں تبدیلی کی گنجائش نہیں رہتی، تاہم ووٹ دینے کا حق ایک الگ قانونی بحث ہے۔ جسٹس جے مالیہ باغچی نے کہا کہ وہ اس معاملے کو وسیع تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ "ایک الیکشن کی کٹ آف ڈیٹ ہوتی ہے، لیکن ووٹر لسٹ میں رہنے اور ووٹ ڈالنے کا ایک مستقل آئینی حق بھی ہے، جو کہ ایک بڑا معاملہ ہے۔"چیف جسٹس نے درخواست گزاروں سے کہا کہ "آپ لوگ مستقل طور پر ووٹ کے حق سے محروم نہیں ہو رہے۔" جب وکیل نے بتایا کہ بہت سے درخواست گزار پاسپورٹ ہولڈر (بھروسہ مند شہری) ہیں، تو عدالت نے کہا کہ وہ فی الحال کوئی وعدہ نہیں کر سکتے کیونکہ روزانہ نئی درخواستیں دائر ہو رہی ہیں۔ اب سب کی نظریں 13 اپریل پر ٹکی ہیں، جب سپریم کورٹ یہ واضح کرے گا کہ ٹربیونل سے انصاف پانے والے لاکھوں ووٹر اس بار پولنگ بوتھ تک جا پائیں گے یا انہیں اگلے انتخاب کا انتظار کرنا ہوگا۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ