بی جے پی کا طویل عرصے سے دیکھا جانے والا خواب پورا ہو چکا ہے۔ انگا (اوڈیشہ) اور کلنگا کے بعد اب بنگال بھی زعفرانی کیمپ کے زیرِ نگیں ہے۔ لیکن مغربی بنگال بی جے پی کی اعلیٰ قیادت جیت کی خوشی میں جذباتی ہو کر کوئی غلطی نہیں کرنا چاہتی۔ اس کے برعکس، وہ پارٹی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اضافی احتیاط برت رہے ہیں۔ انتخابات کے دوران وفاداریاں بدلنا کوئی نئی بات نہیں ہے، اور اب جب کہ بی جے پی اقتدار میں آچکی ہے، ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ کئی جماعتوں کے لیڈران اور کارکنان بی جے پی میں شامل ہونے کے خواہش مند ہیں۔ اسی پس منظر میں پارٹی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے ریاستی صدر شمیک بھٹاچاریہ نے صاف کر دیا ہے کہ اگر ترنمول کانگریس سے کوئی بھی پارٹی میں آنا چاہتا ہے، تو اسے شامل نہیں کیا جائے گا۔ پارٹی اس فیصلے پر سختی سے کاربند ہے۔ درحقیقت، بنگال نے گزشتہ چند سالوں میں ترنمول اور بی جے پی کے درمیان لیڈروں کی مسلسل آمد و رفت دیکھی ہے۔ شوبھیندو ادھیکاری سے لے کر ارجن سنگھ اور تاپس رائے جیسے کئی جیتنے والے امیدوار اصل میں ترنمول کیمپ سے آئے تھے۔ دوسری طرف، بی جے پی چھوڑ کر ترنمول میں شامل ہونے والے مشرقی مدنی پور کے دو لیڈروں—پوتر کر اور چندن منڈل—نے بھی الیکشن لڑا تھا، لیکن انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب یہ افواہیں گرم ہیں کہ وہ دوبارہ بی جے پی میں واپسی کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ترنمول کے کئی شکست خوردہ قدآور لیڈران بھی بی جے پی کا رخ کرنے کے لیے پر تول رہے ہیں، جس کے پیشِ نظر شمیک بھٹاچاریہ نے یہ سخت انتباہ جاری کیا ہے۔
Source: PC-sangbadpratidin
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ