انتخابات کے پہلے اور دوسرے مرحلے سے ٹھیک پہلے ترنمول کانگریس کی جانب سے اسمبلی حلقہ وار 'الیکشن کمیٹی' تشکیل دی گئی ہے۔ اپوزیشن لیڈر شبھیندو ادھیکاری کے ضلع کے طور پر معروف مشرقی مدنی پور کے پانچ اسمبلی حلقوں کو اس فہرست میں خاص اہمیت دی گئی ہے۔حکمراں جماعت کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں اسمبلی حلقہ وار عہدیداروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس میں ہر علاقے کے لیے ایک مخصوص ڈھانچہ تیار کیا گیا ہے۔ہر کمیٹی میں امیدوار کے ساتھ ساتھ چیئرمین، کنوینر، جوائنٹ کنوینر اور اسسٹنٹ کنوینر کے عہدے رکھے گئے ہیں۔مقامی بااثر لیڈروں کو مختلف عہدوں پر فائز کر کے ذمہ داریاں بانٹ دی گئی ہیں۔اس اقدام پر سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ بنیادی طور پر دو سوالات اٹھ رہے ہیں۔ترنمول کے اندرونی اختلافات اکثر سامنے آتے رہتے ہیں۔ کئی معاملات میں دیکھا گیا ہے کہ جب ایک گروپ کا لیڈر امیدوار بنتا ہے تو دوسرا گروپ غیر فعال ہو جاتا ہے۔ کیا یہ سب کو کمیٹی میں عہدے دے کر ایک لڑی میں پرونے کی کوشش ہے؟ کیا مشرقی مدنی پور میں شبھیندو ادھیکاری کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے مقامی لیڈروں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانا ہی اصل مقصد ہے؟حالانکہ پارٹی قیادت اسے محض 'انتخابی حکمت عملی' اور 'تنظیمی ڈھانچہ' قرار دے رہی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ کمیٹیاں گروہ بندی روکنے کے لیے نہیں بلکہ منظم طریقے سے انتخابات کے انتظام کے لیے بنائی گئی ہیں۔اس سے پہلے بھی ترنمول کانگریس نے کئی حساس اسمبلی حلقوں میں اسی طرح کی انتخابی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتخابی میدان میں یہ کمیٹیاں کتنا موثر کردار ادا کرتی ہیں۔
Source: PC-anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ