Bengal

چائے باغات کے مزدوروں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بنگال کو نشانہ بنایا

چائے باغات کے مزدوروں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بنگال کو نشانہ بنایا

مغربی بنگال کے چائے کے باغات کے مزدوروں کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حکومت محروم رکھ رہی ہے! بدھ کے روز لوک سبھا میں مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے یہ الزام لگایا۔ فنانس بل 2026 پر بحث کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ”ترنمول چائے کے باغات کے مزدوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔“ ریاست کے 3 لاکھ 79 ہزار چائے کے مزدوروں کو سرکاری سہولیات سے محروم رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے، مرکزی وزیر خزانہ نے ترنمول ارکان پارلیمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ”آپ نے غربت کی لکیر پر زندگی گزارنے والے چائے کے مزدوروں کو انصاف نہیں دیا۔ حالانکہ فنڈز مختص کیے جا چکے تھے۔ آپ نے ایسا کیوں نہیں کیا؟“ اس بار کے اسمبلی انتخابات میں شمالی بنگال کے چائے کے بیلٹ کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ترنمول اور بی جے پی دونوں ہی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے دورہ? شمالی بنگال کے دوران لوک سبھا میں مرکزی وزیر خزانہ کی تقریر کو بہت سے لوگ اسی ’سیاسی رسہ کشی‘ کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ 2021 کے مرکزی بجٹ میں مرکز نے ’پردھان منتری چائے شرمک پروتساہن‘ اسکیم کے تحت آسام اور مغربی بنگال کی خواتین چائے مزدوروں اور ان کے خاندان کے بچوں کی تعلیم کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے مختص کیے تھے۔ اس بار کے بجٹ میں اس فنڈ کی مدت میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔ بی جے پی پہلے ہی الزام لگا چکی ہے کہ اس فنڈ کا صحیح استعمال نہیں ہوا۔ فنانس بل پر بحث کے جواب میں نرملا سیتارمن نے بدھ کے روز مودی حکومت کے ’اصلاحاتی پروگرام کی کامیابی‘ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، ”بھارت ریفارمز ایکسپریس پر چل رہا ہے، اور اصلاحات مضبوطی کے ساتھ مکمل کی جا رہی ہیں۔ حکومت نے ایم ایس ایم ای ، کسانوں اور کوآپریٹیو کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، کیونکہ وہی روزگار کی فراہمی، پیداوار اور بھارت کی مجموعی ترقی کا اصل مرکز ہیں۔“

Source: PC- anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments