مغربی بنگال میں (خصوصی معلوماتی رپورٹ) سے متعلق اہم کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ جب تک بڑی تعداد میں ووٹرز فہرست سے باہر نہ ہوں یا انتخابی نتائج پر اس کا حقیقی اثر نہ پڑے، تب تک انتخابات منسوخ نہیں کیے جا سکتے۔ چیف جسٹس سوریا کانت نے واضح کیا کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے انہیں بتایا ہے کہ ٹریبونل میں سماعت شروع ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا، "ٹریبونل کو اس طرح بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔ ہم کوئی فیصلہ نہیں لیں گے، جو بھی فیصلہ لینا ہے وہ ٹریبونل ہی لے گا۔ جسٹس باغچی نے الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس ملک میں کوئی پیدا ہوا ہو، وہاں ووٹ ڈالنے کا حق صرف آئینی نہیں بلکہ ایک جذباتی معاملہ بھی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ "منطقی تضاد" جیسا مسئلہ صرف مغربی بنگال میں ہی کیوں ہے۔عدالت نے سوال اٹھایا کہ اگر 10 فیصد ووٹرز ووٹ نہیں ڈال پاتے اور جیت کا فرق 10 فیصد سے زیادہ ہو، تو ایسی صورت میں کیا ہوگا؟ جسٹس باغچی کے مطابق، اگر متاثرہ ووٹرز کی شرح 5 فیصد سے کم ہے، تب بھی اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔چونکہ پہلے اور دوسرے مرحلے کے لیے ووٹر لسٹیں بالترتیب 6 اور 9 اپریل کو 'فریز' ہو چکی ہیں، اس لیے قانوناً ان لوگوں کا ووٹ ڈالنا مشکل ہے جن کے نام فہرست میں نہیں ہیں۔ تاہم، سپریم کورٹ ان ووٹرز کے مستقبل پر غور کر رہی ہے جو ٹریبونل سے کلیئر ہو کر آئیں گے۔ عدالت نے فی الحال گیند ٹریبونل کے پالے میں ڈال دی ہے، لیکن یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ دو آئینی اداروں (کمیشن اور عدالت) کی کھینچا تانی میں عام ووٹر کا نقصان ہو رہا ہے۔ پیر کی دوپہر کو ہونے والی تفصیلی سماعت اس سمت میں مزید وضاحت فراہم کرے گی۔
Source: PC-anandabazar
میتا نے ممتا بنرجی کی دی ہوئی ساڑھی پہن کر شادی کی
نندی گرام میں یوم شہدا کے موقع پر شوبھندوادھیکاری راستے میں
دھند کی وجہ سے موٹر سائیکل اور وین کی آمنے سامنے ٹکر ا گئی!2ہلاک
ایم پی کھگن مرمو اور شنکر گھوش حملے کی زد میں
ممتا کے آتے ہی فوج نے ترنمول اسٹیج کو کھولنا روک دیا
نیپال کی بدامنی بنگال میں بھی پھیل گئی، لیا گیا بڑا فیصلہ