Bengal

سپریم کورٹ ای ڈی کی درخواست پر جمعرات کو سماعت کرے گا، بنچ کا اعلان

سپریم کورٹ ای ڈی کی درخواست پر جمعرات کو سماعت کرے گا، بنچ کا اعلان

14جنوری :آئی پیک کے معاملے پر ای ڈی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواست پر جمعرات کو سماعت ہوگی۔ سماعت کا وقت اور بنچ کی تفصیلات بھی سامنے آ گئی ہیں۔ ادھر کلکتہ ہائی کورٹ نے بدھ کے روز اس کیس کی سماعت کی لیکن فی الحال اسے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ بدھ کو سپریم کورٹ نے بتایا کہ آئی پیک کیس میں ای ڈی کی درخواست پر سماعت جمعرات کو صبح ساڑھے 11 بجے ہوگی۔ یہ سماعت جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس وپل منوبھائی پنچولی پر مشتمل بنچ کرے گی۔ واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے پہلے ہی سپریم کورٹ میں کیویٹ (Caveat) داخل کر رکھی تھی تاکہ ای ڈی کی درخواست پر ریاست کا موقف سنے بغیر کوئی یکطرفہ فیصلہ نہ دیا جائے۔ گزشتہ 8 جنوری کو کوئلہ اسمگلنگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں ای ڈی نے سالٹ لیک سیکٹر فائیو میں واقع آئی پیک کے دفتر اور لاوڈن اسٹریٹ پر ادارے کے سربراہ پرتیک جین کے گھر پر چھاپہ مارا تھا۔ تلاشی کے دوران وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی خود وہاں پہنچ گئی تھیں اور مبینہ طور پر کئی دستاویزات اپنے ساتھ لے گئی تھیں۔ اس واقعے پر ای ڈی اور ترنمول نے کلکتہ ہائی کورٹ میں الگ الگ مقدمات دائر کیے تھے۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ وزیر اعلیٰ نے آئینی اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے دستاویزات چھین لیں، جبکہ ترنمول کا کہنا ہے کہ انتخابات سے قبل ای ڈی کی کارروائی سیاسی انتقام ہے جس کا مقصد انتخابی حکمت عملی چوری کرنا ہے۔بدھ کو جسٹس شبھرا گھوش کی عدالت میں ان دونوں مقدمات کی سماعت ہوئی۔ ای ڈی نے عدالت کو بتایا کہ تلاشی کے دوران انہوں نے کوئی دستاویز ضبط نہیں کی، جس کے بعد عدالت نے ترنمول کی عرضی کو نمٹا دیا۔ تاہم، ای ڈی کے مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی گئی ہے کیونکہ یہ معاملہ اب سپریم کورٹ میں ہے۔ ہائی کورٹ سپریم کورٹ کی کارروائی اور احکامات دیکھنے کے بعد اس کیس کو دوبارہ سنے گی۔ریاستی حکومت کا موقف ہے کہ آئی پیک تلاشی معاملے میں ای ڈی کی اپیل پر انہیں سنے بغیر کوئی حکم جاری نہ کیا جائے۔ اب سب کی نظریں جمعرات کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت پر لگی ہیں۔

Source: PC-anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments